انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 511

انوار العلوم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲ - د کرے اور تم اسے ملول کرو۔ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے سامنے تم گورنمنٹ کے وفادار کہلاؤ اور دل میں کچھ اور خیالات ہوں۔ایسا نہ ہو کہ تم اپنے آپ کو امین ظاہر کر کے کسی پر اعتبار جمالو اور جب وہ تم سے معاملہ کرے تو اس سے خیانت کرو۔بلکہ تم ایسے بنو کہ تمہارا اندر باہر ایک جیسا ہو۔اور ایسے بن جاؤ کہ خدا تعالیٰ کے ہر ایک حکم کے سامنے اپنی گردن جھکا دو اور خدا تعالیٰ کے لئے ہر ایک قربانی کرنے کے لئے تیار رہو۔جب تک ایسے نہ بنو گے خدا تعالیٰ کے عبد نہیں کہلا سکو گے۔پس تم اپنے معاملات کی خاص طور پر نگہداشت کرو۔کچھ معاملات کا تو میں نے ذکر کر دیا ہے۔لیکن چونکہ وقت کم ہے اس لئے سب معاملات کی میں تشریح نہیں کر سکتا مگر تم سب کا ہی خیال رکھو۔یہ بھی یاد رکھو کہ معاملات کی بھی دو شقیں ہیں۔ایک وہ کہ ان کا حکم معاملات کی دو شقیں ہے۔ہماری شریعت میں ہی موجود نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب میں بھی ان کے متعلق حکم پایا جاتا ہے۔مثلاً ہمارے مذہب میں آتا ہے خیانت نہ کرو۔عیسائی مذہب کی بھی اس بارے میں یہی تعلیم ہے اور ہندو مذہب بھی یہی کہتا ہے۔اسی طرح ہمارے مذہب میں حکم ہے رحم کرو۔عیسائیت اور ہندو مذہب بھی یہی کہتے ہیں۔ان احکام کا پورا کرنا بھی ضروری۔مگر ان سے زیادہ توجہ مؤمن کو اس دوسری قسم پر دینی چاہئے جس میں وہ احکام پائے جاتے ہیں جو دوسرے مذاہب کے احکام سے مختلف ہیں۔اور پھر ان سے بھی زیادہ ان پر توجہ کرنی چاہئے جن کو دوسرے مذاہب والے بری نظر سے دیکھتے ہیں۔کیونکہ اگر مسلمان بھی اپنے عمل سے یہ ظاہر کریں گے کہ اسلام کے وہ احکام قابل عمل نہیں ہیں تو جتنے لوگ ان احکام کی وجہ سے اسلام سے پھریں گے ان سب کا گناہ انہی کی گردن پر ہو گا۔مثلاً انجیل میں جس شخص نے یہ تعلیم درج کی کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔اس کو ناقابل عمل قرار دے کر جتنے لوگ عیسائیت کو خیر باد کہیں گے ان کا ذمہ دار وہی شخص ہو گا جس نے یہ تعلیم دی۔پس اسلام جن باتوں میں دوسرے مذاہب سے ممتاز ہے اور جن پر دوسرے لوگ طعنہ کرتے ہیں ان کو اگر مسلمان بھی چھوڑ دیں۔اور ان کی طرف توجہ نہ کریں تو گویا وہ معترضوں کو خود موقع دیتے ہیں کہ وہ اسلام پر اعتراض کریں۔اور اس طرح لوگوں کو اسلام سے متنفر کریں اس لئے ان کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔