انوارالعلوم (جلد 4) — Page 25
انوار العلوم جلد ۴ ۲۵ جماعت قادیان کو نصائح اور یہ نہ کہو کہ یہ تو خلیفہ کا کام ہے۔حضرت خلفاء قدیم و حال کے کاموں میں فرق عمر راتوں کو پھر پھر کر خبر گیری کیا کرتے تھے۔حضرت صاحب پر بھی بعض نادانوں نے ایسا ہی اعتراض کیا کہ رسول کریم تو بعض اوقات روٹی نہیں کھاتے تھے کھجوریں کھا کر گزارہ کر لیتے تھے۔زمین پر سوتے اور ادھر مرزا صاحب اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔اچھا کھانا کھاتے ہیں۔ان نادانوں کو کیا معلوم کہ ہر سخن وقتنے و ہر نکتہ مقامی دارد رسول کریم کا زمانہ تصنیف کا نہ تھا۔تبلیغ ہوتی تو زبانی۔ان کے اوقات اور قسم کے تھے اور مسیح موعود کے اور قسم کے۔(گو مقصد ایک ہی تھا) تصنیف والے کے دماغ پر کچھ ایسا اثر ہوتا ہے کہ اگر اس کے کھانے کے متعلق خاص احتیاط نہ کی جائے۔اس کے بیٹھنے اور سونے کے لئے نرم بستر نہ ہو۔نرم لباس نہ ہو تو اس کے اعصاب پر صدمہ ہو اور وہ پاگل ہو جائے۔پس دماغی کام کرنے والوں کا قیاس ان لوگوں پر نہیں کرنا چاہئے جو اور قسم کے کام کرتے ہیں۔حضرت عمر کتابیں نہیں لکھا کرتے تھے اور نہ ان کے نام باہر سے اتنے لمبے لمبے سو سوا سو خطوط روزانہ آیا کرتے تھے۔جن کے جواب بھی ان کو لکھنے یا لکھانے پڑتے ہوں اس وقت خلیفہ کے مشاغل زیادہ تر مقامی حیثیت میں رہتے تھے اور باہر سے کبھی مہینے دوسرے مہینے ڈاک آتی اور اس کا بھی اکثر حصہ زبانی طے ہو جاتا۔مخالفین کے حملے بھی جنگ کی صورت میں ہوتے جن کا دفعیہ فوجوں کے ذریعہ ہو جاتا تھا۔اب تو سب کام دماغ سے ہی کرنے پڑتے ہیں۔پچھلے دنوں میں ترجمہ کا کام کرتا رہا ہوں جس سے میرے دماغ پر اتنا بوجھ مصالح سفر شملہ پڑا کہ ایسی حالت ہو گئی جو میں ایک سطر بھی لکھنے سے رہ گیا اور بخار ہو گیا اس لئے اب میرا ارادہ باہر جانے کا ہے۔اصل منشاء تو یہی ہے کہ ذرا سا آرام ہو سکے مگر پھر بھی میں اپنے فرائض اور اس کام سے جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے غافل نہیں ہوں۔بعض رڈیا میں نے دیکھی ہیں جن کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ کچھ اور مصالح بھی میرے سفر میں ہیں مجھے اس کی تفصیل نہیں معلوم ہو سکی کہ امر خیر ہے یا شر مگر ہے کچھ ضرور جو پیش آنے والا ہے۔اس کے علاوہ میرے ذہن میں جماعت کی ترقی کی سکیمیں ہیں۔خلیفہ وقت کے مشاغل ازاں جملہ ایک یہ کہ وہ کیا تدابیر ہیں جن پر چلنے سے جماعت میں