انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 462

انوار العلوم جلد ۴ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے ہوتا ہے کہ وہ پاک ہو گیا اور اس وقت کہا جائے گا کہ اس میں ایمان پیدا ہو گیا ہے۔آپ کے لئے یہ امتحان اب شروع ہوا ہے پس آپ کو چاہئے کہ اب خاص طور پر ان تمام نتائج پر جرح کریں جو آپ نے اب تک نکالے ہیں۔اگر اب آپ کی جرح میں وہ تمام نتائج صحیح ثابت ہوں تو پھر وہ قابل قدر ہوں گے۔یہ ہمارے شاہ صاحب (سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جو مسٹر احتیاط ضروری ہے ساگر چند کے برابر ہی دائیں طرف بیٹھے تھے) جن سے شاید آپ کا اب تعارف ہو گیا ہو گا۔ان کو میں نے تعلیم عربی کی تکمیل کے لئے مصر میں بھیجا تھا یہ تھوڑے عرصہ کے بعد مصر کو چھوڑ کر شام میں چلے گئے۔مجھے اس قسم کے حالات نظر آئے کہ ان کا شام میں جانا مصر تھا۔میں نے ان کو ملامت کے خطوط لکھے اور ان کے ساتھ جو دوسرے صاحب تعلیم کے لئے گئے تھے (یہ دوسرے صاحب جناب شیخ عبدالرحمن صاحب مولوی فاضل سابق لالہ شنکر داس لاہوری ہیں) ان کو لکھا کہ وہ فورا وہاں جائیں اور ان کو شام سے لے آئیں لیکن اس عرصہ میں جنگ شروع ہو گئی اور وہ وہاں نہ جاسکے اور شاہ صاحب وہیں رہے جب یہ یہاں سے گئے تھے تو ایسی عمر میں گئے تھے کہ صحیح نتائج پر اعلیٰ طریق سے نہ پہنچ سکتے تھے۔انہوں نے وہاں علمی تحقیقاتیں کیں۔خدا نے ان کو ذہن رسا دیا تھا۔علوم میں بہت جلدی ترقی کر گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وہاں یہ رتبہ دیا کہ آہستہ آہستہ وہاں کے گورنمنٹ عربی سلطانیہ کالج کے انٹرنل اسٹنٹ ڈائرکٹر (مدیر داخلیہ) ہو گئے۔ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کن کن حالات میں سے گزرے اور کن کن خیالات کا ان کو مقابلہ کرنا پڑا۔یہ جو کچھ بھی تھے بہر حال نسلی طور پر ان پر ہمارا حق تھا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش اس دین پر ہوتی ہے جو خدا نے اس کے لئے پسند کیا۔مگر اَبَوَاهُ يُهُودَانِهِ أَو يُنَصِّرَانِهِ (مسلم کتاب المقدر باب كل مولود يولد على الفطرة بعد میں ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بناتے ہیں۔اسی طرح چونکہ ان کے والدین خدا کے فضل سے احمدی ہیں۔اس لئے ہمارا ان پر احمدیت کا حق تھا لیکن جب یہ چھ سال کے بعد واپس آئے اور انہوں نے آتے ہی چاہا کہ میرے ہاتھ پر بیعت کریں تو میں نے ان کو روک دیا اور کہہ دیا کہ آپ ابھی ٹھہریں اور صبر کریں اور جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر غور کریں اور جن خیالات پر آپ یہاں سے گئے تھے ان کو سوچیں اگر وہ باتیں اب بھی درست معلوم ہوں تو بعد میں آپ بیعت کرلیں۔چنانچہ ایک یا ڈیڑھ مہینہ تک