انوارالعلوم (جلد 4) — Page 20
العلوم جلد جماعت قادیان کو نصائح ہے۔جس سے نجاشی اتنا متاثر ہوا کہ اس نے ان غریب مسلمانوں کی حفاظت کا ذمہ لے لیا اور اس نے بڑے جوش سے کہا کہ بادشاہت جاتی رہے تو جاتی رہے مگر جس قوم میں اتنا تغیر ہوا ہے اس کو میں درندوں کے ہاتھوں میں نہیں دے سکتا۔اللہ نے مجھے ملک دیا تھا وہی میرے ملک کا محافظ ہے۔افسوس کہ مسلمانوں نے ان ان قوانین مقدسہ سے مسلمانوں کی بے اعتنائی مسلمانوں کی بے اعتنائی قوانین مقدسہ کو بھلا دیا اور ان کی مثال ان دو بلیوں کی طرح ہے جنہوں نے بندر کو پنیر کی تقسیم کے لئے منصف بنایا۔بندر کیا کرتا۔ترازو کا جو پلڑا بھاری ہوتا اس میں سے پنیر کا ٹکڑا اس بہانے سے اٹھا کر خود کھا لیتا کہ دوسرا برابر ہو جائے۔یہاں تک کہ بہت تھوڑا پنیر باقی رہ گیا اور وہ بھی نصف اس نے اس بہانہ سے لے لیا کہ یہ میرا حق الخدمت ہے۔یہی بات مسلمانوں نے کی کہ خود ہی منصف بن بیٹھے۔بعض حکموں کو تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ بوجھل ہیں۔ہم ان پر عمل نہیں کر سکتے اور بعض کو ہلکا سمجھ کر چھوڑ دیا۔انگریزی خوانوں سے پوچھو کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو کہتے ہیں جی یہ نہیں پڑھی جاتی اور جو کہو کہ ڈاڑھی۔تو کہتے ہیں کہ اجی اس کا شریعت سے کیا تعلق۔اس طرح ان لوگوں نے شریعت کو ملیا میٹ کر دیا تھا۔پھر اللہ تعالٰی نے مسیح موعود کے ذریعہ مسیح موعود نے پھر ان قوانین پر عمل کرایا شریعت کو قائم کیا جن محکموں کو وہ بڑے اور بو جھل سمجھتے تھے ان کی نسبت انہیں سمجھایا کہ خدا ایسا حکم دیتا ہی نہیں جس پر انسان عمل نہ کر سکے اور جن کو وہ چھوٹا سمجھتے تھے ان کی نسبت بتایا کہ خدا کا کوئی حکم بھی چھوٹا نہیں ہوتا۔پس ضروری ہوا کہ خدا کے تمام حکموں کی اطاعت کی جائے۔چونکہ یہ احکام خداوندی عربی زبان میں ہیں اس لئے عربی کی تحصیل بھی ضروری ہے اور پھر ضرورت ہے اس بات کی کہ کوئی قرآن کا درس دیوے۔اور حدیث کا درس دیا جائے۔واعظ بھیجے جائیں۔یہ حضرت صاحب کی خواہش تھی۔اور ہر بچے احمدی کی خواہش بھی یہی ہونی چاہئے کہ وہ قرآن و حدیث کو جاننے والا ہو اور مادری زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان بھی سمجھتا ہو۔اس میں دقت صرف ماں باپ کو ہے۔پھر بچے تو خود ہی دونوں زبانیں بولنے والے ہو جائیں