انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 420

العلوم جلد ۴۲۰ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء رنگ نہایت گہرا سرخ تھا اور جسے ہوئے خون کی طرح معلوم ہو تا تھا۔تو مولوی ثناء اللہ صاحب کی امر تسر میں بیٹھے ہوئے کہتے ہیں کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو کہتے رہیں۔ہمارا کام ان کو منوانا اور ہدایت دیتا نہیں۔وہ تو کھڑے ہی اس غرض سے کئے گئے ہیں کہ احمدی جماعت کو بیدار کریں۔لوگ کہتے ہیں وہ شوخی میں بہت بڑھ گئے ہیں ان کو عذاب کیوں نہیں آتا۔میں کہتا ہوں کہ اگر ان کو عذاب آجائے تو کئی لوگ آرام کی نیند سو کر اپنے کام سے غافل ہو جائیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ تم پر غفلت طاری ہو اس لئے اس نے ہوشیار کرنے کے لئے ان کی کو کھڑا کیا ہوا ہے۔اور اگر وہ اور ان کے ساتھی بیٹھ گئے تو پھر ان کی جگہ اور لوگ کھڑے کر دیئے جاویں گے۔میرے خیال میں اگر ہمارے مخالفین میں اس قسم کے لوگ نہ ہوتے تو گزشتہ چھ سال میں کئی ایک لوگ ان کے ساتھ مل جاتے۔کیونکہ وہ لوگ جو اب ہم سے بالکل الگ ہو گئے ہیں وہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ غیر احمدیوں کی آپس میں اچھی تصویر میں بنا کر جماعت کے لوگوں کو ان کی طرف کھینچ کر لے جائیں۔لیکن جب وہ مولوی ثناء اللہ جیسے لوگوں کو دیکھتے تو ان کی طرف مونہہ کرنا بھی پسند نہ کرتے۔پس کسی کے دل میں یہ خیال کیوں آتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ مرے نہیں۔خدا تعالیٰ اس وقت تک ان کو مہلت دے گا جب تک ان کا کوئی اور قائمقام کھڑا نہ ہو جائے۔اور جب تک ان کے ساتھیوں کے دلوں پر انہیں کے ادعاء کے مطابق لمبی عمر پانے کا مفہوم خوب اچھی طرح نقش نہ ہو جائے۔اگر کوئی چاہے کہ مولوی ثناء اللہ ہلاک ہو جاویں تاکہ آرام مل جائے تو یہ درست نہیں۔اگر خدا تعالیٰ ان کو ہلاک کرنا چاہتا تو ان کے ہاتھوں سے وہ تحریریں نہ لکھواتا جو ۱۹۰۷, ۱۹۰۸ء کے اہلحدیث (رسالہ) میں وہ لکھ چکے ہیں۔خدا ہمیں ست بیٹھنے نہیں دینا چاہتا۔کیونکہ اس وقت ہمارا آرام کرنا ہمارے لئے ایسا ہی نقصان دہ ہے جیسا کہ ایک خطرناک جنگل میں کسی کا آرام حاصل کرنے کے لئے سو رہنا۔اسے تو جاگنے کی ضرورت ہے نہ کہ سونے کی۔غرض یہ ہمارے لئے آرام کرنے کا وقت نہیں ہے۔ہم نے ساری دنیا کو ہدایت کی طرف لانا ہے۔گو اس میں شک نہیں کہ انسان سیرت لوگوں کو ہی ہم سمجھا سکتے ہیں نہ بہائم سیرت لوگوں کو۔حضرت مسیح موعود ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ چند بنے بیٹھے ہوئے آپس میں کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی ایک پاؤ تل کھالے تو اسے پانچ روپیہ انعام دیں گے۔پاس سے کوئی جاٹ گذرا وہ سن کر کہنے لگا سلے ( پنجابی میں تل کے پودے کو کہتے ہیں) سمیت یا یونی۔انہوں نے جواب دیا کہ سردار صاحب ہم۔