انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 397

العلوم جلد ۳۹۷ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ ء ہے۔اس کے برخلاف وہ اعتراض جو بظاہر بڑا نظر آئے۔مگر اس کا لوگوں پر کچھ اثر نہ ہو اور وہ حق کے رستہ میں روک نہ ہو اس کی طرف توجہ کرنا لغو ہے۔مثلاً اگر ایک شخص قرآن کریم کی پانچ سو آیتیں غلط طور پر پیش کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف کوئی مضمون لکھے اور اس کا کچھ اثر نہ ہو تو اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر ایک شخص صرف یہ کہے کہ مرزا صاحب نے مسلمان ہو کر حج نہیں کیا۔اب گو وہ اس کے لئے نہ قرآن کی کوئی سند پیش کرتا ہے نہ حدیث کی۔مگر ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن پر اس اعتراض کا اثر ہے تو یہ بڑا اعتراض ہے۔اس کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔تو اعتراضات کو محض بیہودہ اور فضول کہہ دینے سے ہم اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتے۔کیونکہ ہم سے قیامت کے دن یہ دریافت نہیں کیا جائے گا کہ فلاں آیت سے غلط استدلال کر کے جو اعتراض کیا گیا تھا اس کا جواب تم نے کیوں نہیں دیا۔بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم کو جب معلوم تھا کہ فلاں بات لوگوں کو کے حق قبول کرنے میں روک تھی تو کیوں تم نے اس کا ازالہ نہ کیا۔پس ہمارا فرض ہے کہ جس بات سے لوگ دھوکا کھائیں خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو اس کا ازالہ کریں۔کیونکہ ہم اسے فضول کہہ کر اپنے فرض سے بری نہیں ہو سکتے۔دیکھو ابو جہل ایک فضول اور لغو انسان کی تھا۔مگر خدا تعالٰی نے اسے چھوڑا نہیں بلکہ پکڑا۔اسی طرح فرعون کو خدا نے پکڑا۔تو اللہ تعالیٰ بھی ایسی باتوں کی طرف توجہ کرتا ہے جو حق کے رستہ میں روک ہوتی ہیں۔دیکھو حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے مقابلہ میں آنے والے جو مولوی مارے گئے وہ اس وقت کے سب سے بڑے علماء نہ تھے۔ان سے بڑے بڑے موجود تھے۔مگر وہ اس لئے مارے گئے کہ حق کے راستہ میں روک بنے اور انہوں نے لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا۔مثلاً دوالمیال کا فقیر مرزا جس کے شاید چند ہی آدمی معتقد ہوں گے اسے تو مار دیا۔مگر ایسے کئی آدمیوں کو چھوڑ دیا جو اس سے زیادہ عزت اور شہرت رکھتے تھے اور مخالف بھی تھے۔کیونکہ وہ خاص طور پر روک بنا تھا اور دوسرے ایسے نہ تھے پس ان کو باوجود اس کے کہ زیادہ لوگ انکے ماننے والے تھے ہلاک نہیں کیا۔تو کسی اعتراض کا فضول یا لغو ہونے کا فیصلہ سلسلہ کی ترقی کے راستہ میں اس کی رکاوٹ کے لحاظ سے ہو سکتا ہے نہ کسی اور لحاظ سے۔اگر وہ لوگوں کے حق قبول کرنے میں روک ہو تو خواہ حقیقت میں وہ کتنا ہی معمولی ہو تو بھی اسے فضول نہیں کہا جا سکتا۔دیکھو قرآن کریم میں بعض ایسے دلائل بیان کئے گئے ہیں جو جذبات ابھارنے والے ہیں۔اور عقلی دلائل