انوارالعلوم (جلد 4) — Page 376
ام چاند کی عرفان الهی فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور : ۵۶) کہ ہمیشہ امت محمدیہ میں خلفاء بھیجے رہیں گے۔آگے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیسے ہونگے۔بلکہ یہ کہدیا کہ پہلی امتوں میں جس طرح کے ہوتے رہے ہیں اسی طرح کے اس امت میں بھی ہونگے۔پہلے سیاسی بھی ہوئے ہیں اور بغیر سیاست کے بھی اسی طرح اس امت میں ہونگے۔کیوں؟ اس لئے کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُم من الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا ( النور : ۵۶) تاکہ ان کے ذریعہ دین قائم ہو۔اور وہ لوگوں کی اصلاح کریں۔اور ان کے استاد ہوں۔تو خدا تعالیٰ بھی استاد کا ہوتا ضروری قرار دیتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔بہت سی باتیں جو انسان بغیر استاد کے سالوں میں معلوم کر سکتا ہے استاد کے ذریعہ منٹوں میں معلوم ہو سکتی ہیں۔تعلیم شروع کرتے وقت ہی اگر لڑکے ڈکشنریاں استعمال کرنے لگ جائیں۔اور ان کے ذریعہ تعلیم پانا چاہیں تو کئی سالوں میں بھی اتنا نہ پڑھ سکیں جتنا استاد کے ذریعہ چند دنوں میں پڑھ لیتے ہیں۔یہی دیکھ لو اس وقت میں جو تقریر کر رہا ہوں اور جو باتیں بیان کر رہا ہوں ان کے دریافت کرنے کے لئے اگر آپ لوگ اپنے اپنے طور پر کوشش کرتے تو اس کے لئے کئی سالوں کی ضرورت ہوتی۔مگر اب چند گھنٹوں میں آپ لوگوں نے اس قدر سن لیا ہے جو سالوں میں معلوم ہو سکتا ہے اور پھر بھی بڑی مشکل سے۔تو استاد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔اور خدا نے تم سے ہ کیا ہے کہ تمہیں ہم استاد دیتے رہیں گے۔اور تمہیں تو اس استاد کی تلاش کی بھی ضرورت نہیں۔کیونکہ تم ایسے منظم سلسلہ میں ہو کہ تمہارے لئے خدا تعالیٰ خود چن کر استاد کھڑا کر دیتا ہے۔پس تمہارے لئے وہ وقتیں نہیں ہیں جو دوسروں کے لئے ہیں اس لئے تمہیں وعدہ ضرور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔جس سے انسان بہت بڑا فائدہ حاصل کر سکتا ہے وہ محاسبہ ہے۔اس سے اگر انسان فائدہ اٹھائے تو بہت جلد اسے تزکیہ نفس حاصل ہو جاتا ہے۔لیکن اس کی۔چھٹی بات تفصیل وہ نہیں ہے جو آپ لوگوں کے ذہن میں ہے۔بلکہ وہ ہے جو میں بتاؤنگا۔جس سے معلوم جائیگا کہ محاسبہ کیا چیز ہے۔اس میں کیا وقتیں پیش آتی ہیں اور وہ کس طرح دور ہو سکتی ہیں اور وہ کس طرح کرنا چاہئے۔پہلے قرآن کریم سے یہ بتاتا ہوں۔کہ محاسبہ ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللهُ جَمِيعاً فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا عَمِلُوا احْصُهُ اللهُ وَنَسُوهُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدُ (المجادلة:1) یعنی اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالٰی ان سب کو مبعوث کریگا۔