انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 369

ام جلاد ۱۳۴ " ۳۶۹ عرفان الهی مت خیال کرو کہ خیال کے نکالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔کوئی خیال جتنا زیادہ عرصہ دل میں رہتا ہے اتنا ہی زیادہ گہرا ہوتا جاتا ہے اور اگر فور انکال دیا جائے تو انسان بہت سے برے نتائج سے بچ سکتا ہے۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ برے خیال کا دل سے نکالنا کوئی مشکل کام ہے۔بلکہ بہت آسان ہے اور وہ اس طرح کہ جب کوئی برا خیال آئے اسی وقت کسی اچھے شغل میں مشغول ہو جانا چاہئے۔کسی سے بحث شروع کر دینی چاہئے یا کسی سے دیرینہ قضیہ ہو تو اس کے طے کرنے میں لگ جانا چاہئے۔کیونکہ اس طرح وہ کسی خطرناک گناہ سے بچ جائیگا۔پس کو موقع پر انسان برائی کے ارتکاب پر مجبور بھی ہو جائے مگر اس موقع سے پہلے اور پیچھے اسے اس بدی کے خیال کو اپنے دل میں نہیں آنے دینا چاہئے اور اس کو نکالتے رہنا چاہئے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اسے اپنے نفس پر قابو پانے کی طاقت آجائیگی اور وہ بالکل چھوڑ دینے کے لئے تیار ہو جائیگا۔یہ مت سمجھو کہ خیال کوئی معمولی چیز ہے۔دنیا میں جس قدر بھی کام ہو خیال کی حقیقت رہے ہیں وہ سب خیال ہی کا نتیجہ ہیں۔مثلاً جب کوئی شخص ایمان لاتا وہ ہے تو پہلے اس کے دل میں اسلام لانے کا خیال ہی پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح اور جس قدر کام انسان کرتا ہے ان کی ابتداء خیال سے ہی شروع ہوتی ہے۔اس لئے یہ نہ کہو کہ خیال کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔خیال ایک حقیقت ایک واقعہ اور بہت بڑی صداقت ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ خیال تو نظر نہیں آتا اس لئے اس کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے۔ہم کہتے ہیں وہ بچ جس سے بڑ کا درخت بنتا ہے اس میں اتنا بڑا درخت کہاں نظر آتا ہے۔پھر دیکھو انسان کس طرح بنتا ہے۔کیا ہ نتیجہ نہیں ہو تا اس شہوت کا جو دل میں ایک خیال آنے سے پیدا ہوتی ہے۔پس جب انسان کی پیدائش خیال کے اثر کے ماتحت ہوتی ہے تو اس کی حقیقت میں کس کو کلام ہو سکتا ہے راصل انسان جس قدر کام کرتا ہے وہ خیال ہی کے ذریعہ کرتا ہے۔اگر کہو کہ اور چیزیں جب خیال کے ساتھ ملتی ہیں تب کام ہوتا ہے۔اکیلا خیال کچھ نہیں کر سکتا اس لئے خیال بے حقیقت چیز ہے۔تو میں کہتا ہوں کہ اس طرح تو اس پیج کو بھی بے حقیقت قرار دینا پڑیگا جس سے بڑکا کی درخت پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ بیج بڑ نہیں بن جاتا بلکہ وہ زمین سے جو مادہ چوستا ہے وہ بڑ بنتا ہے۔یہی حال دوسرے درختوں کا ہوتا ہے اب اگر کوئی شخص بیج کو اس لئے بے حقیقت کہہ سکتا ہے کہ جب تک دوسری چیزیں اس کے ساتھ نہ ملیں اس وقت تک اس سے درخت نہیں بن سکتا تو وہ خیال کو بھی بے حقیقت کہہ سکتا ہے۔لیکن جب بیج کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بے