انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 332

دم جلد ۴ ۳۳۲ اسلام میں اختلافات کا آغاز باغیوں کا بیت المال کو لوٹنا اس کے بعد ان لوگوں نے اپنے ساتھیوں میں عام منادی کرا دی کہ بیت المال کی طرف چلو اور اس میں جو کچھ ہو لوٹ لو۔چونکہ بیت المال میں سوائے روپیہ کی دو تھیلیوں کے اور کچھ نہ تھا محافظوں نے یہ دیکھ کر کہ خلیفہ وقت شہید ہو چکا ہے اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا فضول ہے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں ان کو کرنے دو۔اور بیت المال کی کنجیاں پھینک کر چلے گئے۔چنانچہ انہوں نے کی بیت المال کو جاکر کھولا اور اس میں جو کچھ تھا لوٹ لیا۔اور اس طرح ہمیشہ کے لئے اس امر کی صداقت پر مہر لگادی کہ یہ لوگ ڈاکو اور لٹیرے تھے۔اور ان کو اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔اور کیا یہ تعجب کی بات نہیں نکہ وہ لوگ جو حضرت عثمان پر یہ اعتراض دھرتے تھے کہ آپ غیر مستحقین کو روپیہ دے دیتے ہیں حضرت عثمان کی شہادت کے بعد سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ پہلے آپ کا گھر لوٹتے ہیں اور پھر بیت المال۔مگر خد اتعالیٰ نے ان کی آرزوؤں کو اس معاملہ میں بھی پورا نہ ہونے دیا۔کیونکہ بیت المال میں اس وقت سوائے چند روپوں کے جو ان کی حرص کو پورا نہیں کر سکتے تھے اور کچھ نہ تھا۔حضرت عثمان کی شہادت کی خبر جب حضرت عثمان کی شہادت پر صحابہ کا جوش صحابہ کو پہنچی تو ان کو سخت صدمہ ہوا۔حضرت زبیر نے جب یہ خبر سنی تو فرمایا إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ۔اے خدا عثمان پر رحم کر اور اس کا بدلہ لے اور جب ان سے کہا گیا کہ اب وہ لوگ شرمندہ ہیں اور اپنے کئے پر پشیمان ہو رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ منصوبہ بازی تھی اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی و حیل بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ (: ۵۵) خدا تعالیٰ نے ان کی آرزوؤں کے پورا ہونے میں روکیں ڈال دی تھیں۔یعنی جو کچھ یہ لوگ چاہتے تھے چونکہ اب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔کل عالم اسلامی کو اپنے خلاف جوش میں دیکھ رہے ہیں اس لئے اظہار ندامت کرتے ہیں۔جب حضرت طلحہ کو خبر ملی تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ خدا تعالٰی عثمان پر رحم فرما دے۔اور اس کا اور اسلام کا بدلہ ان کو گوں سے لے۔جب ان سے کہا گیا کہ اب تو وہ لوگ نادم ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان پر ہلاکت ہو اور یہ آیت کریمہ پڑھی فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةٌ وَلَا إِلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ (ليس (۵)۔ان کو وصیت کرنے کی بھی توفیق نہ ملے گی۔اور وہ اپنے اہل و عیال کی طرف واپس نہ لوٹ سکیں گے۔