انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 303

انوار العلوم جلدم اسلام میں اختلافات کا آغاز اور آئندہ کے لئے ان کو کوئی شکایت باقی نہ تھی صحابہ حیرت میں تھے کہ آخر ان کے کوٹنے کا باعث کیا ہے۔دوسرے لوگوں کو تو ان کے سامنے بولنے کی جرات نہ تھی۔چند اکابر صحابہ جن کے نام کی یہ لوگ پناہ لیتے تھے اور جن سے محبت کا دعوی کرتے تھے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ آخر تمہارے اس لوٹنے کی وجہ کیا ہے۔چنانچہ حضرت علی، حضرت طلحہ حضرت زبیر نے ان لوگوں سے ان کے واپس آنے کی وجہ دریافت کی۔سب نے بالاتفاق یہی جواب دیا کہ ہم تسلی اور تشفی سے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ صدقہ کے ایک اونٹ پر سوار ہے اور کبھی ہمارے سامنے آتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ہمارے بعض آدمیوں نے جب اسے دیکھا تو انہیں شک ہوا اور انہوں نے اس کو جا پکڑا۔جب اس سے دریافت کیا گیا کہ کیا تیرے پاس کوئی خط ہے تو اس نے انکار کیا اور جب اس سے دریافت کیا گیا کہ تو کس کام کو جاتا ہے تو اس نے کہا مجھے علم نہیں۔اس پر ان لوگوں کو اور زیادہ شک ہوا۔آخر اس کی تلاشی لی گئی اور اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کا لکھا ہوا تھا اور اس میں والی مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جس وقت مفسد مصر واپس کو ٹیں۔ان میں سے فلاں فلاں کو قتل کر دینا اور فلاں فلاں کو کوڑے اور ان کے سر اور داڑھیاں منڈوا دیا اور جو خط ان کی معرفت تمہارے معزول کئے جانے کے متعلق لکھا ہے اس کو باطل سمجھنا۔یہ خط جب ہم نے دیکھا تو ہمیں سخت حیرت ہوئی اور ہم لوگ فورا واپس لوٹے۔حضرت علی نے یہ بات سن کر فورا ان سے کہا کہ یہ بات تو مدینہ میں بنائی گئی ہے۔کیونکہ اے اہل کوفہ اور اے اہل بصرہ ! تم لوگوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ اہل مصر نے کوئی ایسا خط پکڑا ہے۔حالانکہ تم ایک دوسرے سے کئی منزلوں کے فاصلے پر تھے۔اور پھر یہ کیونکر ہوا کہ تم لوگ اس قدر جلد واپس بھی آگئے۔اس اعتراض کا جواب نہ وہ لوگ دے سکتے تھے اور نہ اس کا کوئی جواب تھا۔پس انہوں نے یہی جواب دیا کہ جو مرضی آئے کہو اور جو چاہو ہماری نسبت خیال کرو۔ہم اس آدمی کی خلافت کو پسند نہیں کرتے۔اپنے عہدے سے دست بردار ہو جائے محمد بن مسلمہ جو اکابر صحابہ میں سے تھے اور جماعت انصار میں سے تھے کعب بن اشرف جو رسول کریم ای کا اور اسلام کا سخت دشمن تھا اور یہود میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا جب اس کی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کی تکلیف کی کوئی حد نہ رہی تو رسول کریم ﷺ کے ارشاد کے ماتحت انہوں نے اس کو قتل کر کے اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت کی تھی انہوں نے جب