انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 296

انوار العلوم جلدم ۲۹۶ اسلام میں اختلافات کا آغاز دیکھا اور ہر ایک شخص کی جان اس پر گواہی دے رہی تھی کہ اس شخص کا مثیل اس وقت دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتا۔مگر بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں سے تو بہ کرتے جفاؤں پر پشیمان ہوتے ، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ، اپنی شرارتوں سے رجوع کرتے ، یہ لوگ غیظ و غضب کی آگ میں اور بھی زیادہ جلنے لگے اور اپنے لاجواب ہونے کو اپنی ذلت اور حضرت عثمان کے عفو کو اپنی حسن تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی بقیہ تجویز کے پورا کرنے کی تدابیر سوچتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔واپس جا کر ان لوگوں نے پھر خط و کتابت شروع کی مفسدوں کی ایک اور گہری سازش اور آخر فیصلہ کیا کہ شوال میں اپنی پہلی تجویز کے۔مطابق حج کے ارادہ سے قافلہ بن کر نکلیں اور مدینہ میں جا کر یک دم تمام انتظام کو درہم برہم کر دیں اور اپنی مرضی کے مطابق نظام حکومت کو بدل دیں۔اس تجویز کے مطابق شوال یعنی چاند کے دسویں مہینے حضرت عثمان کی خلافت کے بارھویں سال، چھتیسویں سال ہجری میں یہ لوگ تین قافلے بن کر اپنے گھروں سے نکلے۔ایک قافلہ بصرہ سے ایک کوفہ سے اور ایک مصر سے۔پچھلی دفعہ کی ناکامی کا خیال کر کے اور اس بات کو مد نظر رکھ کر کہ یہ کوشش آخری کوشش ہے۔عبد اللہ بن سبا خود بھی مصر کے قافلہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔اس رئیس المفسدین کا خود باہر نکلنا اس امر کی علامت تھا کہ یہ لوگ اب ہر ایک ممکن تدبیر سے اپنے مدعا کے حصول کی کوشش کریں گے۔چونکہ ہر ایک گروہ نے اپنے علاقہ میں حج پر جانے کے ارادہ کا اظہار کیا تھا کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ بارادہ حج شامل ہو گئے اور اس طرح اصل ارادے ان لوگوں کے عامتہ المسلمین سے مخفی رہے۔مگر چونکہ حکام کو ان کی اندرونی سازش کا علم عبداللہ بن ابی سرح والی مصر نے ایک خاص آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو اس قافلہ اور اس کے مخفی ارادہ کی اطلاع قبل از وقت دے دی جس سے اہل مدینہ پہلے ہوشیار ہو گئے۔اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تک اہل مدینہ اور خصوصاً صحابہ ان لوگوں کے تین دفعہ آنے پر ان کو قتل کرنا چاہتے تھے اور ان کو یہ معلوم تھا کہ ان کا حج کے بہانہ سے آکر فساد کرنے کا ارادہ حضرت عثمان " پر ظاہر ہے۔تو پھر کیوں انہوں نے کوئی اور تدبیر اختیار نہ کی اور اسی پہلی تدبیر کے مطابق جن کا علم حضرت عثمان کو ہو چکا تھا سفر کیا۔کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ در حقیقت اہل مدینہ ان لوگوں کے ساتھ تھے اسی وجہ سے یہ لوگ ڈرے نہ تھے۔اس سوال کا تھا