انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 273

لوم جلد ۴ ۲۷۳ اسلام میں اختلافات کا آغاز گو عذر کیا اور ان کی شرارت پر حضرت عثمان کو آگاہ کیا مگر انہوں نے کہا کہ بحکم شریعت گواہوں کے بیان کے مطابق سزا تو ملے گی۔ہاں جھوٹی گواہی دینے والا خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا پائے گا۔(طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۴۶ تا ۲۸۴۸ مطبوعہ بیروت) ولید معزول کئے گئے اور ناحق ان پر الزام لگایا گیا مگر صحابہ کے مشورہ کے ماتحت حضرت عثمان نے ان کو حد لگائی۔اور چونکہ گواہ اور قرائن ان کے خلاف موجود تھے شریعت کے حکم کے ماتحت ان کو حد لگانا ضروری تھا۔سعید بن العاص ان کی جگہ والی کوفہ بنا کر بھیج دیئے گئے۔انہوں نے کوفہ میں جاکر وہاں کی حالت دیکھی تو حیران ہو گئے۔تمام اوباش اور دین سے ناواقف لوگ قبضہ جمائے ہوئے تھے اور شرفاء محکوم و مغلوب تھے۔انہوں نے اس واقعہ کی حضرت عثمان کو خبر دی۔جنہوں نے ان کو نصیحت کی کہ جو لوگ بڑی بڑی قربانیاں کر کے دشمنوں کے مقابلہ کے لئے پہلے پہلے آتے تھے۔ان کا اعزاز و احترام قائم کریں ہاں اگر وہ لوگ دین سے بے توجہی برتیں تب بے شک دوسرے ایسے لوگوں کو ان کی جگہ دیں جو زیادہ دین دار ہوں۔جس وقت کوفہ میں یہ شرارت جاری تھی بصرہ بھی خاموش نہ تھا وہاں بھی حکیم بن جبلہ ابن السوداء کے ایجنٹ اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ حضرت عثمان کے نائبوں کے خلاف لوگوں میں جھوٹی تہمتیں مشہور کی جارہی تھیں۔مصر جو اصل مرکز تھا وہاں تو اور بھی زیادہ فساد برپا تھا عبداللہ بن سبا نے وہاں صرف سیاسی شورش ہی برپا نہ کر رکھی تھی بلکہ لوگوں کا مذہب بھی خراب کر رہا تھا۔مگر اس طرح کہ دین سے ناواقف مسلمان اسے بڑا مخلص سمجھیں۔چنانچہ وہ تعلیم دیتا تھا کہ تعجب ہے کہ بعض مسلمان یہ تو عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لاویں گے مگر یہ نہیں مانتے کہ رسول کریم دوبارہ مبعوث ہوں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِن الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَاتُكَ إِلى مَعَادٍ - (القصص: ۸۶) یعنی وہ خدا جس نے قرآن کریم تجھ پر فرض کیا ہے تجھے ضرور لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لاوے گا۔^ اس کی اس تعلیم کو اس کے بہت سے ماننے والوں نے قبول کر لیا۔اور آنحضرت ا کے دوبارہ دنیا میں ال تشریف لانے کے قائل ہو گئے حالانکہ قرآن کریم ان لوگوں کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے سے جو فوت ہو چکے ہیں بڑے زور سے انکار کرتا ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے