انوارالعلوم (جلد 4) — Page 266
ر العلوم جلدم 744۔اسلام میں اختلافات کا آغاز سے نکل کر کوفہ کی طرف چلا گیا (طبری جلد ۲ صفحہ ۲۹۲۲ مطبوعہ بیروت) مگر فساد بغاوت اور اسلام سے بیگانگی کا بیج ڈال گیا جو بعد میں بڑھ کر ایک بہت بڑا درخت ہو گیا۔میرے نزدیک یہ سب سے پہلی سیاسی غلطی ہوئی ہے اگر والی بصرہ بجائے اس کو جلا وطن کرنے کے قید کر دیتا اور اس پر الزام قائم کرتا تو شاید یہ فتنہ وہیں دبا رہتا۔ابن سوداء تو اپنے گھر سے نکلا ہی اس ارادے سے تھا کہ تمام عالم اسلام میں پھر کر فتنہ فساد کی آگ بھڑکائے۔اس کا بصرہ سے نکلنا تو اس کے مدعا کے عین مطابق تھا۔کوفہ میں پہنچ کر اس شخص نے پھر وہی بصرہ والی کارروائی شروع کی۔اور بالآخر وہاں سے بھی نکالا گیا لیکن یہاں بھی اپنی شرارت کا بیج ہو تا کی گیا جو بعد میں بہت بڑا درخت بن گیا۔اور اس دفعہ اس کے نکالنے پر اس پہلی سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا گیا۔کوفہ سے نکل کر یہ شخص شام کو گیا مگر وہاں اس کو اپنے قدم جمانے کا کوئی موقع نہ ملا۔حضرت معاویہ نے وہاں اس عمدگی سے حکومت کا کام چلایا ہوا تھا کہ نہ تو اسے ایسے لوگ ملے جن میں یہ ٹھہر سکے اور نہ ایسے لوگ میسر آئے جن کو اپنا قائم مقام بنایا جاوے پس شام سے اس کو با حسرت و یاس آگے سفر کرنا پڑا اور اس نے مصر کا رخ کیا مگر شام چھوڑنے سے پہلے اس نے ایک اور فتنہ کھڑا کر دیا۔ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول کریم ال کے ابتدائی صحابہ میں سے ایک نہایت نیک اور متقی صحابی تھے۔جب سے ایمان لائے رسول کریم کی محبت میں آگے ہی قدم بڑھاتے گئے اور ایک لمبا عرصہ صحبت میں رہے۔جیسا کہ ہر ایک شخص کا مذاق جدا گانہ ہوتا ہے رسول کریم ک کی ان نصائح کو سن کر کہ دنیا سے مؤمن کو علیحدہ رہنا چاہئے یہ اپنے مذاق کے مطابق مال جمع کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے اور دولت سے نفرت کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی سمجھاتے تھے کہ مال نہیں جمع کرنا چاہئے۔جو کچھ کسی کے پاس ہو اسے غرباء میں بانٹ دینا چاہئے۔مگر یہ عادت ان کی ہمیشہ سے تھی۔اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے سے بھی جب کہ مسلمانوں میں دولت آئی وہ ایسا ہی کرتے تھے ابن سوداء جب شام سے گزر رہا تھا اس نے ان کی طبیعت میں دولت کے خلاف خاص جوش دیکھ کر یہ معلوم کر کے کہ یہ چاہتے ہیں کہ غرباء و امراء اپنے مال تقسیم کر دیں۔شام میں سے گزرتے ہوئے جہاں کہ اس وقت حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقیم تھے ان سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ دیکھئے کیا غضب ہو رہا ہے۔معاویہ بیت المال کے اموال کو اللہ کا مال کہتا تھا حالانکہ بیت المال