انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 235

اصلا مال کی تلقین رالعلوم جلد ۴ لکھی ۲۳۵ ہوئی پڑھنے سے ایسا مزا نہیں آتا۔جس پر کہہ دیا جاتا ہے کہ لکھنے والے نے اچھی طرح نہیں لیکن بات یہ ہوتی ہے کہ لکھنے والا تو صرف الفاظ ہی لکھتا ہے۔وہ لہریں جو تقریر کرنے والے سے نکل رہی ہوتی ہیں ان کو محفوظ نہیں کر سکتا۔اس لئے صرف الفاظ کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا لہروں کے ساتھ ملنے سے ہوتا ہے جو قرب کی وجہ سے سنے والے تک پورے طور پر پہنچ رہی ہوتی ہیں۔اس لئے تقریر سننے سے زیادہ اثر ہوتا ہے اور پڑھنے کے وقت ایک تو بعد ہوتا ہے اور دوسرے صرف لفظ ہوتے ہیں اس لئے وہ لطف نہیں آتا نہ اتنا اثر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ اسلام میں مجد دین مبعوث کئے مجددین کے مبعوث ہونے کی وجہ جاتے رہے ہیں کیونکہ قرآن کریم کے صرف الفاظ سے وہ اثر نہیں ہو سکتا جو خدا کے صاف کئے ہوئے کسی انسان کے منہ سے نکلنے پر ہو سکتا ہے۔تو جو ہر کسی وجود سے نکلتی ہے وہ ضرور اثر کرتی ہے اور کبھی ضائع نہیں جاتی۔یہ الگ بات ہے کہ جو لہر زیادہ زور دار ہوتی ہے وہ زیادہ اثر کرتی ہے اور جو کمزور ہوتی ہے وہ کم اثر کرتی ہے۔اسی طرح قریب کی چیزوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور بعید پر کم۔لیکن اثر ہو تا ضرور ہے جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر یہ خیال نہ کرے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ایک ایسا شخص جو فتنہ و فساد کی کوئی بات منہ سے نکال کر یہ شخص سخت غلطی کرنے والا انسان کہہ دیتا ہے کہ میرا کیا ہے میں تو ایک غیر ذمہ دار ہوں۔میری بات کا کوئی اثر نہیں ہے۔وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس کی بات کا ظاہرا اثر نہ ہو مگر اس سے جو لہر چلتی ہے وہ ضرور ایسے لوگوں کو خراب کرتی ہے جو کمزور ہوتے ہیں۔ایسے لوگ خواہ اس کے پاس ہوں یا ڈور ان پر ضرور کچھ نہ کچھ اثر ہو گا اور جن میں زیادہ طاقت ہوگی وہ تو اس لہر کا مقابلہ کریں گے لیکن اگر کم ہوگی تو متاثر ہو جائیں گے پس کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ غیر ذمہ دار ہے اور اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔اثر ضرور ہوتا ہے۔اس لئے مؤمن کو چاہئے کہ اپنا ہر ایک کام ہر ایک نعل اور مؤمن کو احتیاط کرنی چاہئے ہر ایک بات کرتے وقت نہایت احتیاط کرے اور کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے کسی قسم کا فتنہ پیدا ہوتا ہو کیونکہ جو ایسا نہیں کرتا وہ اپنے ہاتھ اپنے