انوارالعلوم (جلد 4) — Page 219
دم جلد ۳ ۲۱۹ حقیقت الام ملتے تھے جن میں وہ خط ضائع ہو گیا اور میں نے یہ سمجھا کہ جب پیغام میں یہ خط شائع ہو گا اس وقت ہم بھی دیکھ لیں گے لیکن وہ وہاں شائع نہ ہوا۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے گو حق الیقین نہیں کہ وہ خط ایسے زمانہ کا تھا کہ جس کا زیادہ اثر اصل بحث پر نہ پڑتا تھا۔پس اب اس واقعہ کے اظہار کے بعد مجھے اس کے متعلق مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں حضرت مسیح موعود کی ڈائری نوشته مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مسیح موعود کے اپنے عمل کے بعد مجھے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔اگر آپ کو ضرورت ہے تو آپ اس خط کو شائع کریں۔اس وقت ہم اس خط کی تاریخ اور اس کے مضمون پر کافی غور کر لیں گے۔باقی رہا یہ قول کہ مرزا فضل احمد صاحب کا جنازہ حجت نہیں کیونکہ بیٹوں اور غیروں کے ساتھ معاملہ میں فرق ہوتا ہے۔ان سے آپ ناراض تھے اس لئے جنازہ نہ پڑھا۔تو یہ ایک بیہودہ بات ہے۔ناراضگی زندگی میں ہوتی ہے نہ کہ بعد وفات۔زندگی میں آدمی اپنے بیٹے کو مار بھی لیتا ہے تاکہ اصلاح ہو۔کیا بعد مرنے کے بھی اس کی اصلاح کی امید ہوتی ہے کہ اس کو سرزنش کی جائے۔اور پھر جنازہ تو ایک شرعی فرض ہے جو سب سے پہلے ولی پر مقرر ہے۔آپ اس فرض کو کس طرح نظر انداز کر سکتے تھے۔مرزا نظام الدین وغیرہ کے قبضہ میں لاش کے آنے سے جنازہ کے فرض سے آپ سبکدوش نہیں ہو جاتے۔جنازہ کے لئے آپ کو کہا گیا مگر آپ نے جنازہ نہ پڑھا۔دوسری جگہ فوت ہونا بھی جنازہ کے حق سے سبکدوش نہیں کر دیتا۔آپ شریعت اپنے پاس سے نہ بنا ئیں آپ تو مرزا صاحب کے غیر تشریعی نبی ہونے کے منکر ہیں پھر خود کیوں تشریعی نبی بنتے ہیں۔حلفیہ شہادت اس وقت تک ایک بھی میرے سامنے پیش نہیں ہوئی۔اس شخص کو آ۔پیش کریں جو حلفیہ شہادت دے کہ حضرت مسیح موعود کو یہ کہا گیا تھا کہ فلاں شخص غیر احمدی تھا تو آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔یہ کہنا کہ پہلے آپ کو اس کے احمدی ہونے کے لئے دعا کے لئے کہا گیا تھا دلیل نہیں۔کبھی انسان کو بات بھول جاتی ہے۔خود میرے ساتھ ایسا ہوا ہے۔سیالکوٹ کا ایک طالب علم مجھے اکثر اپنی والدہ کے احمدی ہونے کے متعلق لکھا کرتا تھا۔اس کی والدہ کے فوت ہونے پر اس نے مجھے والدہ کے لئے دعائے مغفرت کے لئے لکھ دیا حالانکہ خود اس نے جنازہ نہ پڑھا اس نے یہ خیال کیا کہ شاید دعائے مغفرت اور جنازہ میں فرق ہو گا مگر مجھے اس وقت اس کے غیر احمدی ہونے کا خیال نہ تھا اور میں نے جنازہ پڑھ دیا۔پس آپ کم سے کم ایسے