انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiv of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xxiv

انوار العلوم جلد ۴ ۱۸ تعارف کر انسانیت کے لئے اسے ملک یقین کرتے ہیں"۔اس صورتِ حال کی تبدیلی کے لئے حضور نے یہ رہنمائی فرمائی کہ : مسلمان اپنی غلطی سے تائب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور خود اسلام کو سمجھیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہوں اور دوسروں کو آگاہ کریں تاکہ وہ نکبت و ادبار جو اس وقت مسلمانوں پر آرہا ہے وہ دور ہو۔۔۔۔اگر مذہب کی خاطر انہوں نے تبلیغ نہیں کی اگر خدا کے حکم کے ماتحت انہوں نے اس بے نظیر تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا تو اب اپنی حیات کے قیام کے لئے ہی کچھ کوشش کریں۔کیونکہ ان کی زندگی اور اسلام کی تبلیغ اب لازم و ملزوم ہو گئے ہیں"۔-۱۵ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے مسٹر ساگر چند بیرسٹرایٹ لاء نے ولایت سے واپسی پر اردسمبر ۱۹۱۹ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے بیت المبارک قادیان میں شرف ملاقات حاصل کیا۔اس موقع پر حضور نے انہیں جو نصائح فرمائیں وہ اردسمبر 1919ء کے الفضل میں شائع ہوئیں۔حضور نے فرمایا کہ آپ نے ہمارے مبلغین کی باتوں کو معقول سمجھ کر قبول کر لیا جبکہ ان کے مقابل میں کوئی دوسرا سنانے والا نہ تھا۔اب یہاں (ہندوستان میں فریق مخالف بھی ہے جو کہتا ہے کہ ان کے پاس اپنے مذہب کی صداقت کے دلائل ہیں۔اس لئے اصل مقابلہ یہاں ہو گا۔میری آپ کو نصیحت ہے کہ آپ اپنی تحقیقات کو دہرائیں کہ جس بات کو آپ نے صحیح پایا تھا اس کے مخالف باتیں سن کر اور جذبات و تعلقات ابھرنے پر بھی آپ ان کو صحیح پاتے ہیں یا نہیں اس لئے اب یہ آپ کے لئے آزمائش کا وقت ہے۔حضور نے فرمایا کہ کسی عقیدہ کو جبراً قبول یا ترک کرنے پر کسی انسان کو مجبور کرنا بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ عقیدہ جو دل سے نہ مانا جائے اور جس کی بنیا د دلائل پر نہ ہو ماننے کے قابل نہیں۔حضور نے فرمایا۔اسلام یہ کہتا ہے کہ پہلے تم خوب غور کرو اور دیکھو کہ سچاند ہب کونسا ہے اور کس میں سچائی کے دلائل نشانات اور برکات ہیں۔جب تم عقل کے زور سے یہ معلوم کر لو کہ فلاں مذہب اس وقت خدا کی طرف سے ہے تو پھر اس کے آگے چون و چرا نہ کرو۔بلکہ