انوارالعلوم (جلد 4) — Page 205
انوار العلوم جلد ) ۲۰۵ حقیقت الامر ایک غیر چیز معلوم ہو تا تھا اور دل کے ارد گرد بھی آنا فانا اس طرح زندہ حصہ کم ہوتا جاتا تھا کہ بالکل نزع کی کیفیت پیدا تھی۔حتی کہ مکرمی و معظمی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے کہ جن کو اللہ نے اس موقع پر خاص طور پر ہمدردی کرنے کا موقع دیا جب مجھ سے دریافت کیا کہ کیا ہوا ہے۔تو اس وقت میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا۔لیکن بجائے اس کی کے کہ یہ اوقات مجھے اپنے عقیدے سے متزلزل کر دیتے یا موت کا سامنا میرے قدم کو لڑکھڑا دیتا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان عقائد پر میں نے اس وقت کامل تسلی پائی اور ان کی اشاعت اور ان پر ثابت قدم رہنے کو میں اپنے لئے باعث مغفرت جانتا تھا۔اور میرا دل اس وقت مطمئن تھا کہ میں نے جو کچھ کیا حق اور انصاف کو مد نظر رکھ کر کیا ہے۔اور اس کی بدولت امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مستیوں اور غفلتوں سے عفو فرمائے گا اور اپنے فضل کے نیچے جگہ دے گا۔مولوی صاحب! آپ اپنے تلخ تجربہ سے یہ بات معلوم کر چکے ہیں کہ ایسے نازک وقت میں بعض وفعہ انسان اپنے مقام پر قائم نہیں رہتا۔جیسا کہ آپ خود ایک دفعہ سخت بیمار ہوئے اور باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کے دار کے ساکن طاعون سے محفوظ رہیں گے اور باوجود اس کے کہ آپ دار مسیح کے ساکن تھے اس وقت آپ گھبرا گئے اور یقین کیا کہ مجھے طاعون ہے۔لیکن حضرت صاحب کو تسلی دلانی پڑی کہ اس گھر کے ساکن کو طاعون نہیں ہو سکتی (حقیقتہ الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۶۵) میں بھی اس نازک حالت میں سے گزر کر اس امر کا مشاہدہ کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جن عقائد کو میں حق سمجھ کر ان پر قائم ہوں اور دوسروں کو بھی ان پر قائم رہنے کی تاکید کر رہا ہوں میرا دل ہر طرح ان پر مطمئن ہے۔اور اس وقت جب کہ موت میرے سامنے کھڑی تھی میرا دل مجھے اس امر کی ملامت نہیں کرتا تھا کہ میں نے کیوں خود غرضی اور نفسانیت سے ان ناحق باتوں کو تسلیم کیا اور ان دوسروں کو بھی تسلیم کرنے کی تاکید کی۔ہاں یہ ضرور خیال تھا کہ شاید ان عقائد کے رد میں اور لوگوں کو سمجھانے میں میں نے پوری کوشش نہیں کی کہ جو میرے مخالف غلط طور پر حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اور بارہا اس تکلیف کے وقت میں نے اس فقرہ کا ورد کیا جو خدا تعالیٰ نے مجھے مصائب سے بچنے کے لئے بذریعہ رویا بتایا تھا کہ اللَّهُمَّ اهْتَدَيْتُ بِهَدْيِكَ وَا مَنْتُ بِنَبِتِكَ یعنی اے خدا میں تیری ہدایت کو تسلیم کرتا ہوں اور تیرے نبی مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں اور اسی طرح میں نے بعض خاص احباب کو جمع کر کے ان کو اس بات کی طرف