انوارالعلوم (جلد 4) — Page 191
انوار العلوم جلدم 191 حقیقته الرؤيا پر وہی نشان دیکھا۔کیونکہ ان دنوں کسی بیماری کی وجہ سے میرے سر کے بائیں طرف کے بال ایک روپیہ برابر اڑ گئے تھے۔بیعت کے بعد اسے معلوم ہوا کہ میرا نام بھی محمود ہے۔جس پر اسے اپنی خواب کی صداقت کا علم ہو گیا۔اور اس نے لوگوں کے سامنے اپنی رؤیا کو بیان کیا۔پھر غیر مبائعین میں سے بہت لوگوں کو خواہیں آئیں اور وہ اسی ذریعہ سے بیعت میں داخل ہوئے۔ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میرے دل میں آپ سے بڑی نفرت تھی۔اور میرا ایک دوست تھا اس کی بھی یہی حالت تھی۔لیکن میں نے دیکھا کہ ہم دونوں ایک پکی سڑک پر جارہے ہیں اور کچھ دور جا کر ایک پگڈنڈی آگئی ہے۔پکی سڑک کو میں نے دیکھا کہ ایک انجینئر بنا رہا ہے اور وہ انجینئر آپ ہیں۔لیکن چونکہ مجھے آپ سے بغض تھا اس لئے پکی سڑک پر چلنا چھوڑ دیا اور پگڈنڈی پر چل پڑا۔اور گو اس وقت مجھے پیاس لگی ہوئی تھی اور آپ کے پاس پانی تھا۔لیکن میں نے پینا نا پسند کیا اور آگے چلا گیا۔آگے سے حضرت مسیح موعود نے اشارہ فرمایا کہ ادھر نہ آؤ اور ساتھ ہی ایک شیر حملہ آور ہوا۔یہ دیکھ کر میں تو واپس بھاگ آیا مگر میرے دو سرے ساتھی کو شیر نے پھاڑ ڈالا۔اب میں تو بیعت کرتا ہوں لیکن میرا دوست نہیں مانتا۔کچھ عرصہ کے بعد اس کو طاعون ہو گئی اور وہ مرگیا۔تو میری تائید میں بہت سے لوگوں کو خوابیں آئی ہیں۔مگر کہہ دیا گیا کہ یہ حدیث النفس ہیں۔کیوں ایسا کہا گیا؟ اس لئے کہ وحی اور رؤیا کا ان لوگوں کی نگاہ میں کوئی پاس اور ادب نہیں ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ جب میری رویا ان کے خلاف پڑی تو کہہ دیا کہ تم مامور نہیں ہو اور جب حضرت مسیح موعود کی وحی خلاف پڑی تو کہہ دیا کہ ضعیف سے ضعیف حدیث کے بھی ماتحت ان کو رکھیں گے۔چھٹی علامت یہ ہے کہ ایسی خوابوں سے انسان نیکی اور طہارت میں ترقی کرتا ہے۔مثلاً خواب آنے کے بعد جب انسان کی آنکھ کھل جائے تو اس میں کوئی سستی اور کاہلی نہ ہو بلکہ ایک قسم کی چستی پائی جائے اور اٹھ کر تجد پڑھے۔یہ بھی اس خواب کے خدا کی طرف سے ہونے کی علامت ہے۔ساتویں علامت یہ ہے کہ ایسی خواہیں اکثر مثالی زبان میں آتی ہیں۔یعنی بات ظاہرہ طور پر نظر نہیں آتی بلکہ کسی رنگ میں اس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔مثلاً اگر کسی کے مرنے کے متعلق اطلاع دی جائے۔تو یہ نہیں کہ اسے مردہ دکھایا جائے بلکہ کوئی ایسا اشارہ کر دیا جائے گا