انوارالعلوم (جلد 4) — Page 190
دم جلد ۴ 19۔حقیقته الرؤيا جانشین بنتا ہوتا ہے۔انہوں نے بھی دیکھا تھا کہ میں آنحضرت ا کے آگے جا رہا ہوں۔اس پر جب اعتراض ہوا کہ کیا تمہارا درجہ آنحضرت سے بڑا ہے۔تو انہوں نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ جو خدمت پر مامور کیا جاتا ہے وہ آقا کے آگے ہی چلا کرتا ہے۔تو یہ خواب ایک ہندو نے دیکھی۔اس کو اس بات کی کیا خواہش ہو سکتی تھی کہ میں خلیفہ بنوں یا نہ بنوں۔پھر اگر حدیث النفس ہی ہوتی تو وہ مجھے گھوڑے پر سوار نہ دیکھتا بلکہ یہ کہتا کہ تم کو میں نے خلیفہ بنا ہوا دیکھا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اسے مثالی رنگ میں دکھا کر بتلا دیا کہ یہ حدیث النفس نہیں ہے۔پھر ایک غیر احمدی نے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک دریا ہے اور اس پر ایک آدمی کھڑا ہے اور کچھ لوگ گزر رہے ہیں۔جو شخص گزرتا ہے اسے وہ کھڑا ہونے والا شخص کہتا ہے کہ اس سے (مجھ سے) چٹھی لاؤ تب گزرنے دوں گا۔جو لوگ تو چٹھی لا کر دکھا دیتے ہیں وہ صحیح سلامت پار اتر جاتے ہیں اور جولانے سے انکار کرتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ایک شخص نے جو یہاں سے قریب ہی ایک گاؤں شکار کا رہنے والا ہے اور مجھے جانتا نہ تھا دیکھا کہ میں خلیفہ مقرر ہو گیا ہوں صبح اٹھ کر اس نے احمدیوں سے پوچھا کہ قادیان میں کوئی محمود ہے اس کو بڑا درجہ ملنے والا ہے۔اس سے یہ سن کر جب وہاں کے احمدی یہاں آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ حضرت مولوی صاحب فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ میں خلیفہ ہوا ہوں۔اسی طرح ہزارہ کی طرف کا ایک شخص جس کا نام محمد صادق ہے آیا اس نے دیکھا کہ میں نفل پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا ہوں اور وہاں اپنے بھائی سے مصافحہ کیا ہے جس کا نام محمود تھا۔اور مصافحہ کرتے وقت بجائے ہاتھ پر ہاتھ پڑنے کے بازو پر ہاتھ پڑا ہے اور دیکھا کہ اس وقت اس کے بھائی کے بائیں طرف سر کے بال ایک روپیہ بھر اڑے ہوئے ہیں۔یہ رویا اس نے کسی کو سنائی اور اس نے اسے کہا کہ تم کسی بزرگ کی بیعت کرو گے۔وہ اسی تلاش میں تھا کہ کسی احمدی نے حضرت مولوی صاحب کا پتہ اسے بتایا اور وہ یہاں آیا۔بٹالہ میں اسے کسی نے آپ کی وفات کی خبر دی مگر وہ قادیان آگیا۔یہاں لوگ خلافت کے لئے بیعت ہو رہے تھے۔وہ کہتا ہے کہ میں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب تو فوت ہو چکے ہیں انہی کی بیعت کر لوں مگر جب بیعت کے لئے ہاتھ رکھا۔تو بجائے ہاتھ پر ہاتھ پڑنے کے بازو پر ہاتھ پڑا۔کہتا ہے کہ اس وقت مجھے خیال آیا کہ کہیں یہ وہی خواب تو پوری نہیں ہوئی۔اس وقت سر اٹھا کر دیکھا تو میرے سر