انوارالعلوم (جلد 4) — Page 171
دم جلد م 141 حقیقته الرؤيا اکٹھے ہو جائیں گے اور ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک سمندر ہی کے ذریعہ جا سکیں گے۔اب سوال ہو تا تھا کہ یہ کون سے سمندر ہیں جن کے ملنے کی خبر دی گئی ہے تو اس کا جواب سور ہے۔ریا که يَخْرُجُ مِنْهُمَا NOUN NANGAGE : المَرْجَانُه که ان دونوں سے موتی اور مونگا نکلتا اب جغرافیہ میں دیکھ لو کہ وہ کون سے دو سمندر ہیں کہ جن میں سے ایک سے موتی اور دوسرے میں سے مونگا نکلتا ہے اور جن دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی خشکی واقع تھی کہ جس کی وجہ سے ایک کا پانی دوسرے کے پانی سے نہیں مل سکتا تھا۔جغرافیہ بالاتفاق کہے گا کہ یہ دونوں سمندر بحیرہ احمر اور بحیرہ قلزم ہیں کہ اول الذکر اپنے قیمتی موتیوں کی وجہ سے مشہور ہے اور ثانی الذکر مونگے کی وجہ سے۔پس اس علامت سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ اس آیت میں بحیرہ احمر اور بحیرہ قلزم مراد ہیں۔اور قرآن کریم نے آج سے تیرہ سال پہلے ان دونوں کے ملنے کی خبردی ہے۔اور گوان کا نام نہیں لیا مگر ایسی علامتیں بتا دی ہیں جن کے ذریعے سے ان کے معلوم کرنے میں کوئی روک نہیں رہتی۔چنانچہ ایک علامت تو میں ابھی بتا چکا ہوں دوسری یہ ہے کہ وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئْتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ (الرحمن : (۲۵) کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان سمندروں میں بڑے بڑے جہاز کھڑے کئے جائیں گے۔اب دیکھ لو دنیا میں سب سے زیادہ جہاز نہر سویز ہی سے گزرتے ہیں۔غرض یہ باتیں بہت ہی قبل از وقت بتادی گئیں۔کیا کوئی انسانی عقل اور قیاس ہے جو ایسا کر سکے ہر گز نہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کی پیش گوئیاں ہیں جو بہت عرصہ پہلے سنا دینے کے بعد پوری ہو ئیں۔تو خدا کی طرف سے جو الہام ہوتے ہیں ان کی یہ علامت ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ اس وقت کوئی بات بتلائی جاتی ہے جب کہ اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اور نہ کسی انسان کے قیاس میں آسکتی ہے۔مگر شیطانی خواہیں اس وقت آتی ہیں جب کہ علامات اور آثار کے ذریعہ قیاس کیا جا سکتا ہے گو پھر بھی بہت کم پوری ہوتی ہیں۔ان کے امتیاز کی ایک اور بھی علامت ہے اور وہ یہ کہ شیطانی خواہیں کئی باتوں سے مرکب نہیں ہوتیں بلکہ مفرد ہوتی ہیں۔اور مرکب بات کا ہی قبل از وقت بتانا زیادہ مشکل ہوتا ہے مثلاً قیاس کر کے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ زید آئے گا اور ممکن ہے کہ وہ آبھی جائے لیکن اگر کہا جائے کہ زید آئے گا۔اس کے سر پر فلاں قسم کی پگڑی ہوگی پائجامہ ایسا پہنے ہوئے ہو گا تو یہ قیاس نہیں ہو سکتا۔تو ان لوگوں کی خواہیں بسیط ہوتی ہیں۔اور قیاس بسیط کبھی پورا بھی ہو جاتا