انوارالعلوم (جلد 4) — Page 167
انوار العلوم جلد ۴ 142 حقیقته الرؤيا ہوتا ہے اور آئندہ کے واقعات پر پردہ بھی پڑا رہتا ہے۔یہ ایک ایسا اصل ہے کہ جس کا اعمال قلب کے واقف ہر گز انکار نہیں کر سکتے۔اب میں اس گروہ کو لیتا ہوں جو یہ تو مانتا ہے کہ خواب اور رؤیا دیکھنا کسی بات نہیں رویا کچی ہوتی ہیں اور حدیث النفس ہی نہیں ہوتیں مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ یہ کسی علم ہے ہر ایک انسان جو کوشش کرے وہ اسے حاصل کر سکتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ جس طرح بعض خواہیں حدیث النفس ہوتی ہیں اسی طرح خوابوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو کسب سے تعلق رکھتی ہے اور اس کو بھی قرآن کریم نے بیان کیا ہے مگر باوجود اس بات کے تسلیم کرنے کے یہ کہاں سے ثابت ہو گیا کہ خدا کی طرف سے خوابیں ہوتی ہی نہیں۔کیا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ زید بول سکتا ہے تو یہ بھی ثابت جائے گا کہ عمر نہیں بول سکتا، ہر گز نہیں۔اسی طرح اس بات کے ثابت ہونے کی وجہ سے کہ کسی خواہیں بھی ہوتی ہیں یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ خدا کی طرف سے ہوتی ہی نہیں۔وہ لوگ جو خوابوں کو صرف کسی عمل قرار دیتے ہیں۔خواہیں دیکھنے کے لئے مختلف طریق اختیار کرتے ہیں۔مثلاً پانی کا گلاس بھر کر اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں اور اس میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں یا کبھی شیشہ پر نظر جما کر بیٹھ جاتے ہیں یا کبھی سیاہی کو سامنے رکھ کر دیکھنے لگ جاتے ہیں۔اس طرح انہیں کچھ نظارے نظر آجاتے ہیں پھر بعض یوں بھی کرتے ہیں کہ یکسو اور خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔اس طرح ان پر نیند غالب ہو جاتی ہے اور اسی حالت میں وہ اپنے کسی عزیز اور دوست کو دیکھ لیتے اور اس سے باتیں کر سکتے ہیں۔مگر ان باتوں سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہو تاکہ تمام کی تمام خواہیں اسی قسم کی ہوتی ہیں اور کسی طریق پر پیدا کی جا سکتی ہیں۔ہاں ایک قسم کسی خوابوں کی بھی ہے اور قرآن کہتا ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔مگر اس سے اس کی بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خدا کے فضل کے ماتحت خواہیں ہوتی ہی نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی خوابیں ہوتی ہیں اور وہ شیطانی ہوتی ہیں۔کوئی انسان جب یہ خواہش کرتا ہے کہ میں بھی نبیوں کی طرح خوابیں دیکھوں تو شیطان اس کی اس خواہش کو دیکھ کر اس سے تعلق پیدا کر لیتا ہے اور اسے شیطانی خواہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔میں نے اس جماعت کے متعلق بڑا مطالعہ کیا ہے جس سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہماری جماعت کے راستہ میں ہندوستان اور یورپ میں اگر کوئی روک پیدا ہو گی تو اسی قسم کے لوگ ہوں گے اور ان کا مقابلہ بہت مشکل کام ہو