انوارالعلوم (جلد 4) — Page 162
رالعلوم جلد ۴ حقیقته الرؤيا کم یا بالکل بند ہو جاتا ہے۔لیکن یہ تو وہ سلسلہ ہے جو مردوں سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ عورتوں سے۔اور جوانی کے بعد کثرت سے شروع ہوتا ہے نہ کہ بند ہو جاتا ہے۔اس لئے ان دونوں میں بڑا فرق ہے اور دونوں ایک دوسرے سے الگ تھلک ہیں۔اب میں کچھ اور اعتراض بیان کرتا ہوں جو ان لوگوں کو نہیں سوجھے لیکن حقیقت سے ناواقف طبیعتوں میں پیدا ہو کر ٹھوکر کا باعث ہو سکتے ہیں۔ان کو پیش کر کے میں جواب دوں گا ناکہ کسی کو ان سے ٹھوکر نہ لگے۔پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو منحوس اور اچھی خواہیں جب خواب آئے گی منحوس اور ڈراؤنی ہی آئے گی۔اور بعض جواب ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو جب خواب آئے گی اچھی اور خوش کن ہی آئے گی۔اب سوال پیدا تا ہے کہ اگر خوابیں خدا کی طرف سے ہوتی ہیں تو پھر ایسا ہونے کی کیا وجہ ہے۔کیوں ہمیشہ ایک قسم کے لوگوں کو اچھی خوابیں ہی آتی ہیں اور دوسری قسم کے لوگوں کو بری۔کیوں ایسا نہیں ہو تاکہ دونوں قسم کے لوگوں کو ملی جلی آئیں؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو واقع میں حدیث النفس کے ماتحت منحوس خواہیں آتی ہیں ان سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہوتا اور ان کی خواہیں لغو ہی جاتی ہیں۔اسی طرح جن کو واقع میں حدیث النفس کے ماتحت اچھی خوابیں آتی ہیں ان کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ان کی خواہیں بھی لغو جاتی ہیں۔اس لئے دونوں مساوی ہیں اور یہ دونوں قسم کے خواب دیکھنے والے باوجود مختلف قسم کی خواہیں دیکھنے کے در حقیقت ایک ہی درجہ کے آدمی ہیں۔کیونکہ نہ ایک کو اس کی خوابوں سے کوئی نقصان ہے اور نہ دوسرے کو اس کی خوابوں سے کچھ فائدہ۔پس ان دونوں کی نسبت تو ہمارا یہی جواب ہے کہ ان کی حالت بتا رہی ہے کہ ان کو حدیث النفس ہے اور جب ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ حدیث النفس کا ہی نتیجہ ہے تو پھر کوئی بحث ہی نہ رہی۔اس کے متعلق اگر کہا جائے کہ ایسی خواہیں جن کا نام تم حدیث النفس رکھتے ہو یہ بعض لوگوں کو منحوس ہی آتی ہیں اور پوری بھی ہو جاتی ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کو اچھی آتی ہیں اور پوری بھی ہو جاتی ہیں جس سے معلوم ہوا کہ پہلی قسم کے لوگوں کو تو ان سے نقصان پہنچتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو فائدہ۔اس طرح دونوں مساوی کس طرح ہوئے ؟