انوارالعلوم (جلد 4) — Page 154
انوار العلوم جلدم و ۱۵۴ حقیقته الرؤيا مترتب نہیں ہو سکتے۔مگر رات کو جب فارغ ہو کر سوتا ہے تو اس کے دماغ میں جو خیالات پیدا ہوتے ہیں وہ ایک نظارہ کے رنگ میں اسے دکھائی دیتے ہیں۔اس کا نام الہام اور رویا ہے اور چونکہ اس وقت وہ غفلت کی حالت میں ہوتا ہے اس لئے سارے کے سارے اسے یاد نہیں رہتے۔ورنہ جس وقت ہے کہ اس کی آنکھ لگتی ہے اسی وقت سے ایسے نظارے اسے دکھائی دینے لگ جاتے ہیں اور جب تک وہ نہیں جاگتا برابر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔اور اگر وہ یک لخت جاگ اٹھے یا ہلکی نیند ہو تو اسے یاد بھی رہ جاتے ہیں۔اسی کا نام وحی اور الہام اور رویا رکھ لیا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی خواہیں چار ماہ کے بچہ سے لے کر بوڑھے ہونے تک برابر روزانہ آتی رہتی ہیں۔اور اس میں کسی نبی ، رسول اور ولی کا فرق نہیں ہے۔ہر ایک انسانی خواہ کسی مذہب اور کسی عمر کا ہوا سے ضرور خوابیں آتی ہیں۔ہاں کبھی اسے یاد رہ جاتی ہیں لیکن اکثر یاد نہیں رہتیں۔یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے۔اور جو علم قلب جاننے کے مدعی ہیں وہ کہتے ہیں کہ وحی اور الہام صرف اس بات کا نام ہے کہ انسان کی قوت ارادی جب سلب ہو جاتی ہے تو مختلف خیالات اور نظارے دکھائی دیتے ہیں۔انہیں نظاروں کا نام وحی رکھ لیا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں دیکھو انسان میں ایک ایسی قوت ہے کہ جس کے ماتحت اس کے تمام قومی کام کرتے ہیں۔مثلاً انسان جب اپنے ہاتھ کو اٹھانا چاہے اسی وقت اٹھتا ہے اور جب گرانا چاہے گرتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ تو اٹھانا چاہے اور ہاتھ گر جائے۔یا وہ گرانا چاہے تو ہاتھ کھڑا ہو جائے۔یہ اسی قوت کی وجہ سے ہوتا ہے جسے قوت ارادی کہتے ہیں۔سونے کی حالت میں چونکہ یہ قوت تارک العمل ہو جاتی ہے یا کمزور ہو جاتی ہے۔اس لئے قوت واہمہ آزاد ہو کر خوب گشت کرتی ہے۔اور اس کی بلند پروازی کو سوتا ہوا دماغ واقعات سمجھ لیتا ہے اور ایک خاص شکل اور آواز کی صورت میں انسان کے سامنے پیش کر دیتا ہے جو بوجہ غافل ہونے کے اسے حقیقت خیال کر لیتا تو ہے اور اس کا نام وحی یا الہام رکھ لیتا ہے۔پھر انہیں میں سے جو محققین کہلاتے ہیں ان کا خیال ہے کہ الہام قوت ارادی کے تارک العمل ہونے کا نام نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ انسانی جسم میں جو مختلف طاقتیں ہیں ان کے فارغ ہونے کی وجہ سے جب ان میں جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ جوش دماغ تک پہنچنے لگتا ہے تو دماغ اس کی مختلف شکلیں بنا کر پیش کرنی شروع کر دیتا ہے۔اس کا نام وحی اور الہام رکھ لیا جاتا ہے۔ان لوگوں کی تحقیق ہے کہ جتنی صفائی کے ساتھ جوانی کے ایام میں خوابیں آتی ہیں اتنی