انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 138

انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو ہیں ان پر اگر کوئی بڑے سے بڑا غیر احمدی مولوی بھی اعتراض کرے تو ذرا نہیں گھبراتے بلکہ دندان شکن جواب دے کر اس کامنہ بند کردیتے ہیں لیکن جو نہیں آتے ان میں یہ بات نہیں ہوتی۔ان کی یہ کمی اُسی وقت دور ہوگی جبکہ وہ دین سیکھنے کیلئے خاص طور پر یہاں آکر رہیں گے۔اس کیلئے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دینی علوم کے سیکھنے اور ان میں ملکہ پیدا کرنے کیلئے یہی ضروری نہیں ہوتا کہ لفظ پڑھائے جائیں بلکہ یہ بات ایک اور طرح بھی حاصل ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک ایسی جگہ جس میں خدا تعالٰی نے برکت رکھی ہو اس سے اور ایسے انسان سے جسے خدا تعالیٰ نے جماعت کے انتظام کیلئے کھڑا کیا ہو اس سے تعلق ہو اور اس کی صحبت میں بیٹھا جائے تو خواہ وہ سارے دن میں ایک لفظ بھی نہ بتائے تو بھی اٹھتے وقت پہلے کی نسبت زیادہ علم اور معرفت ہو گی۔یہ ایک بہت بڑا اور اہم مضمون ہے کہ اس طریق سے کس طرح معرفتِ الہی اور دین میں ترقی ہو جاتی ہے اس وقت فرصت نہیں کہ اس کو بیان کروں ہاں اگر کوئی تجربہ کیلئے تیار ہو تو وہ اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنے دل میں کچھ سوال رکھ کر میرے پاس بیٹھ جائے اور مجھے وہ سوال بتائے نہیں صرف پاس بیٹھا رہے پھر دیکھے کہ باتوں ہی باتوں میں اس ملا کے سوال حل ہوتے ہیں یا نہیں۔اس کیلئے قرآن کریم نے جو شرائط مقرر کی ہیں وہ میں پھر کبھی بتادوں گا ان کے مطابق جو عمل کرے گا وہ دیکھ لے گا کہ ہم خواہ کسی اور ہی مضمون پر ذکر کریں تو بھی اس کے شکوک مٹنے اور شبہات دور ہونے شروع ہو جائیں خداتعالی کی طرف سے مقررہ سنت ہے اور میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی صحبت میں بیٹھ کر دیکھا ہے کہ خود بخود سوال حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ایسے وجودوں میں وہ برکات اور انوار الہی ہوتے ہیں جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔پس میں آپ لوگوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ علم دین حاصل کرنے کیلئے قادیان آئیں اور ظاہری علوم اور باطنی علوم میں یہ ایک بہت بڑا فرق ہے کہ اول الذکر میں اسباب ظاہری کا زیادہ دخل ہوتا ہے اور باطنی علوم میں علوم باطنی کا مسمریزم وغیرہ علوم کے ماہرین بھی دل سے دل کو بات پہنچادینے کا دعوی کرتے ہیں گو ان کا دعوی ثابت نہیں مگر اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو ضروری ہے کہ اول اس کا سوال معلوم ہو اور پھر جواب دینے والا خاص طور پر علیحدہ بیٹھ کر خاموشی سے اس پر توجہ ڈالے اور ایک وقت میں ایک ہی شخص سے معالمہ ہو سکے گا بر خلاف اس کے روحانی اثرات چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں ان میں ان اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی اور پھر یہ یقینی ہوتے ہیں۔مگر دنیاوی علوم محض ظنی اور شکی جن میں کثیر حصہ جھوٹ اور فریب کا شامل ہوتا ہے۔خاکسار مرزا محمود احمد گے۔