انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 137

انوار العلوم جلد ۴ ۱۳۷ علم حاصل کرو اس کی تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔جو دوست یہاں آتے رہتے ہیں ان کو کسی نہ کسی رنگ میں دی جاتی ہے اور انہیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔کوئی یہ نہ کہے کہ ہمارے پاس حضرت مسیح موعود کی کتابیں جو موجود ہیں انہیں اپنے طور پر پڑھ کر ہی ہم دین کی باتوں سے آگاہ ہو جائیں گے کیونکہ یہ کتابیں قرآن کریم سے بڑھ کر نہیں ہیں مگر کیا قرآن کے موجود ہوتے ہوئے لوگ دین سے بے خبر نہ ہو گئے۔ضرور ہو گئے۔جس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے پاس شفایابی کا نسخہ تو موجود تھا لیکن اس کے استعمال کرانے والا کوئی نہ تھا۔پس تمہارے لئے ضروری ہے کہ بار بار یہاں اگر تعلیم حاصل کرو اور جو ضرورت ہو اس کے مطابق نسخہ تجویز کراؤ تاکہ فائدہ ہو۔ہاں یہ خوب یاد رکھو کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تمام علوم میں ماہر ہو۔یا قرآن کریم کے تمام معانی اور معارف پر آگاہ ہو البتہ دین کا علم حاصل کرنے سے ایک ایسا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اعتراض نہیں ہوتا جس کا جواب نہ آجائے اور کوئی روحانی مشکل نہیں ہوتی جو حل نہ ہو جائے۔جب یہ ملکہ پیدا ہو جائے تو پھر انسان کیلئے دینی علم کافی ہو جاتا ہے اور یہ اسی طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ کسی استاد کے ذریعہ علم حاصل کیا جائے اسی ملکہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهُ فِى الظُّلُمتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَفِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: ۱۲۲) بھلا بتاؤ تو سہی کہ ایک ایسا شخص جو مردہ ہو اور پھر ہم نے اسے زندہ کردیا ہو اور اس کیلئے ایک شمع پیدا کی ہو کہ جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہو اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے کہ جو اندھیرے سے باہر نہیں نکلتا۔کافروں کو ان کے اعمال ایسے ہی خوبصورت کر کے دکھائیں گے۔(یعنی شیطان نے ان کو ان کے اعمال ایسے خوبصورت کر کے دکھائے ہیں کہ وہ اُن کو چھوڑنا پسند ہی نہیں کرتے)۔اس ارشاد باری سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالٰی نے مومن کیلئے صرف زندہ ہونا ہی کافی نہیں قرار دیا گیا بلکہ فرماتا ہے کہ اس کے پاس ایسا نور بھی ہونا چاہئے کہ خواہ وہ کیسے ہی خطرناک دشمنوں میں چلا جائے ذرا نہ گھبرائے۔پس جب تک یہ ملکہ نہ پیدا ہو اس وقت تک انسان کامل انسان نہیں بن سکتا اور اس میں جس قدر وسعت علماء کی صحبت میں رہنے۔ہو سکتی ہے وہ کسی اور طریق سے نہیں ہو سکتی۔چنانچہ دیکھ لو وہ لوگ جو اکثر قادیان آتے رہتے