انوارالعلوم (جلد 4) — Page 124
انوار العلوم جلد ۴ : ۱۲۴ علم حاصل کرو اس نے میرے سامنے چھلکے رکھ کر میری ہتک کی ہے۔تو وہ انسان جو صرف ظاہری شریعت پر عمل کرتا ہے اور معرفتِ الہی ، تقویٰ اللہ کا علم نہیں سیکھتا اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص اپنے افسر کے سامنے چھلکوں سے بھر کر تھال لے جاتا ہے۔یا ایک بے جان جسم اور مردار پیش کرتا ہے۔خدا ایسے لوگوں کو کہے گا کہ وہ دنیا ہی کے مردار خور تھے جن کو تم اس طرح خوش کر سکتے تھے میرے پاس اسے کیوں لائے انہیں کے پاس لے جاؤ میں اس مردار کو نہیں لینا چاہتا۔تو خالی ان مسائل کے سیکھنے سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا روحانیت اور تقویٰ کا حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کہ یہی اصل مغز اور گری ہے۔مگر یہ بھی یاد رکھو کہ تمہارا طریق ان لوگوں کی طرح بھی نہ ہو جو کہتے ہیں کہ ہم نے مغز شریعت کو حاصل کرلیا ہے۔چھلکے کی کیا ضرورت ہے ہم کہتے ہیں کوئی ایسی گری دکھاؤ تو سہی جو بغیر چھلکے کے تیار ہوئی ہو۔جب کوئی مغز بغیر چھلکے کے پک ہی نہیں سکتا اور خدا کہتا ہے کہ انسانی زندگی کا پھل اس کی موت کے وقت پکتا ہے تو ان لوگوں کو کہاں سے پکا پکایا مغز مل جاتا ہے کہ چھلکے کی انہیں ضرورت ہی نہیں رہتی۔یہ محض طریقت کے دھوکابازوں کا دھوکا ہے۔کیا وہ رسول کریم ﷺ سے بھی بڑھ گئے ہیں کہ ان کو شریعت کے ظاہری احکام کی پابندی کی ضرورت نہیں رہی۔کیا رسول کریم ﷺ نے نمازیں پڑھنی اور روزے رکھنے اس لئے چھوڑ دیئے تھے کہ آپ کا پھل پک گیا تھا ہرگز نہیں۔پس جب آپ کا پھل وفات سے قبل نہیں پکا تھا تو اور کون ہے جس کا پک سکتا ہے۔دراصل یہ پھل موت کے وقت ہی جاکر پکتا ہے خواہ کڑوا پکے یا میٹھا۔دیکھو جس طرح پھلوں کے پکنے کا ایک موسم ہوتا ہے اسی طرح انسانی اعمال کے پھل کے پکنے کا بھی ایک موسم ہے اور وہ اس کی موت کی گھڑی ہے۔جس طرح جب کوئی پھل پک جاتا ہے تو اسے توڑ لیا جاتا ہے اسی طرح جب انسان کا پھل پک جاتا ہے تو خداتعالی اس کے توڑنے کیلئے فرشتے بھیج دیتا ہے جو اس پھل کو اس کے پاس لے جاتے ہیں آگے جاکر اگر وہ کڑوا نکلے تو پھینک دیا جاتا ہے اور اگر میٹھا ہو تو قبول کر لیا جاتا ہے۔مت خیال کرد که محض روحانیت کوئی چیز ہے یا محض ظاہری مسائل کچھ حقیقت رکھتے ہیں جب تک دونوں نہ ہوں کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔پس اگر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ظاہری علم اور تقویٰ دونوں کو حاصل کرو۔ان دونوں کے بغیر کوئی انسان مومن نہیں بن سکتا۔میں آپ لوگوں کو تاکید کرتا ہوں کہ ان دونوں کے حاصل