انوارالعلوم (جلد 4) — Page 101
انوار العلوم جلد م H علم حاصل کرو مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبیاء :۴۵) - کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کنارں سے کم کرتے چلے آرہے ہیں کیا پھر بھی یہی غالب ہوں گے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت جو خدا کے فضل سے دن بدن بڑھ رہی ہے، زمین کے کناروں سے آ آکر لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں کیا وہ آخر مغلوب ہوگی اور اس کے گھٹنے والے مخالف غالب۔پھر یہ نہیں کہ ہم یوں ہی بڑھ رہے ہیں کوئی ہماری مخالفت کرنے والا اور ہمارے خلاف زور لگانے والا نہیں ہے بلکہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے، عالم، جاہل، امیر، غریب، چھوٹے بڑے صوفی سجادہ نشین غرضیکہ ہر حیثیت اور ہر رنگ کے لوگ ہماری مخالفت کر رہے ہیں اور ایک جماعت ہم میں سے نکل کر بھی ہمارے خلاف کھڑی ہو گئی ہے۔دنیا میں کسی قوم کو ہلاک کرنے کے دو ہی طریق ہوتے ہیں ایک طاقت سے دوسرے گھر کے بھیدیوں کے ذریعہ ، اور یہ دونوں طریق خدا تعالیٰ نے ہمارے خلاف استعمال کرائے ہیں تا ثابت ہو جائے کہ یہ خدا کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔دیکھو اگر ہماری مخالفت نہ ہوتی تو لوگ کہتے کہ انہیں یونہی غلبہ حاصل ہو گیا ہے اگر مخالفت کی جاتی تو کبھی کامیاب نہ ہوتے لیکن خدا نے نہ چاہا کہ ہمیں اس طرح چپکے سے کامیاب کردے بلکہ اس نے ہر قسم کے لوگوں کو مخالفت پر کھڑا کر دیا۔مسلمان حکمرانوں نے تکلیفیں پہنچائیں، امراء نے دکھ دیئے، عوام نے پتھر مارے، وطن سے بے وطن کر دیا، عورتوں کو چھین لیا ، جائیدادیں ضبط کرلیں، غرضیکہ ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں اور ہر چیز کے چھینے کیلئے جو کوشش کوئی کر سکتا تھا کی گئی حتی کہ ہماری مخالفت میں تلوار تک بھی اٹھائی گئی۔مگر کیا ہمارا سلسلہ بڑھنے سے رک گیا۔ہرگز نہیں بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔پھر کہا گیا تھا کہ چونکہ ان کی دیوار مضبوط ہے اس لئے ہمارے حملے کارگر نہیں ہوتے انہیں کے اندر سے جب کوئی ان کے مقابلہ کیلئے اُٹھے گا تب ان کو شکست ہوگی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد لکھ دیا گیا کہ اب وہ وقت آنے والا ہے جبکہ ان کے اندر سے ایک گروہ اُٹھے گا اور اس جماعت کو تباہ کر دے گا۔چنانچہ کچھ لوگ اندر سے ایسے کھڑے بھی ہوئے جنہوں نے سمجھا کہ ہم لنکا ڈھائیں گے لیکن لنکا کیا ایک اینٹ بھی نہ اکھیڑ سکے۔تو یہ دو معیار ایسے ہیں جو خدائی سلسلہ کی صداقت کے قرآن کریم سے ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جس میں خشیت اللہ نہیں وہ مومن نہیں اور یہ ہمارے دشمنوں میں نہیں پائی جاتی بلکہ ہم میں پائی جاتی ہے۔پھر قرآن بتلاتا ہے کہ ایک چھوٹی معلوم : ہوتے۔