انوارالعلوم (جلد 4) — Page 99
انوار العلوم جلد ۴ ٩٩ علم حاصل کرو کہ اس نے ہماری جماعت کے لوگوں کے قلوب کو ایسا مطمئن کر دیا اور ایسا یقین دلایا ہے کہ کیلئے خواہ انہیں کیسی ہی خطرناک قربانی کیوں نہ کرنی پڑے اس کیلئے بھی تیار ہیں اور پورے یقین اور ایمان کے ساتھ جانتے ہیں کہ چونکہ ہم ہی حق پر ہیں اس لئے خدا کی نصرت ہمارے ہی ساتھ ہوگی۔ہمارے خلاف جو اس قدر شور برپا کیا جارہا خشیت اللہ کا ہونا صداقت کی علامت ہے ہے اس کے متعلق دو باتیں دیکھنی چاہئیں ان سارا فیصلہ ہو جاتا ہے خواہ ہمارے خلاف شور مچانے والے پیغامی ہوں یا دوسرے لوگ دونوں سے ان کے ذریعہ نہایت آسانی کے ساتھ فیصلہ ہو سکتا ہے۔پہلی بات تو خشیت اللہ ہے۔جس جماعت کے لوگوں میں خشیت اللہ پائی جائے وہ راست باز اور حق پر ہوتی ہے اور جس میں یہ نہیں اس میں کچھ بھی نہیں۔اب اگر غور کیا جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ ہمارے مخالفین میں اس کا نام و نشان بھی نہیں پایا جاتا اور ان کے دلوں سے یہ بات بالکل اٹھ گئی ہے۔اس مباہلہ کے معاملہ میں دیکھ لو۔میرا خیال تھا کہ صوفی کہلانے والوں میں کچھ تو شرم و حیا باقی ہوگی مگر معلوم ہو گیا ہے کہ ان کا گھر بھی خالی ہے۔ہماری جماعت کے ایک شخص نے خواجہ حسن نظامی کے متعلق اشتہار شائع کیا تھا کہ مجھ سے مباہلہ کرلو۔اس کے جواب میں اس نے کسی پریس کے گل گش کی طرف سے اشتہار نکلوایا کہ میرے ساتھ ناک سے ناک ملا کر جامع مسجد دہلی کے مینار سے کودو- جو زندہ بچ گیا وہ سچا ہو گا۔یہ کیسی جہالت اور نادانی کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے کہ کوئی انسان اس طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مباہلہ کے اس طریق کو چھوڑ کر جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا ہے ایسی بیہودہ حرکت کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اگر مباہلہ کا یہ بھی کوئی طریق تھا تو کیوں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں نہ بتادیا اور اگر نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ کو یہ طریق نہ سوجھا تھا تو پھر بھی وہ عالم الغیب ہے آئندہ باتوں کو جانتا ہے اس کل کش کے دل میں آنے والے معلوم کر کے ہی بتادیتا۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ ان لوگوں سے خشیت اللہ اٹھ چکی ہے اس لئے نئی نئی اور بیہودہ باتیں پیش کر کے اللہ تعالی کی ہتک کر رہے ہیں۔اللہ تعالی نے تو بتایا ہے کہ اگر سچائی میں شک ہو تو مباہلہ کرو مگر یہ کہتے ہیں کہ نہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ ناک سے ناک ملا کر اونچے مینار سے کودنا چاہئے۔میری سمجھ میں تو یہ بات بھی نہیں خیالات سے