انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 76

علوم جلد ۴ 64 قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام واقف نہ ہوں گے۔ابھی اس بات کے دیکھنے والے لوگ زندہ موجود ہیں کہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود نے سلسلہ احمدیہ کے قیام سے پہلے یہاں کے لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ نماز کی طرف توجہ نہیں کرتے خود آدمی بھیج بھیج کر ان کو مسجد میں بلوانا شروع کیا تو ان لوگوں نے یہ عذر کیا کہ نمازیں پڑھنا امراء کا کام ہے۔ہم غریب لوگ کمائیں یا نمازیں پڑھیں تو آپ نے یہ انتظام کیا کہ ایک وقت کا کھانا ان لوگوں کو دیا جاوے۔چنانچہ چند دن کھانے کی خاطر بچیں تھیں آدمی آتے رہے مگر آخر میں ست ہو گئے اور صرف مغرب کے وقت کہ جس وقت کھانا تقسیم ہو تا تھا آجاتے جس پر آخر یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود کے شوق دینی کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے تو ان کی مراد پوری کردی۔اس وقت ہماری جماعت کے پاس قادیان میں چار مساجد ہیں جن میں سے دو نہایت عالی شان ہیں اور چاروں ہی پانچوں وقت نمازیوں سے پر رہتی ہیں مگر آپ لوگ ابھی ویسے کے ویسے ہی ہیں۔یہی حال روزوں کا ہے۔زکوۃ دینے والا تو شاید آپ لوگوں میں سے ایک بھی نہ ہو گا چنانچہ اس جلسہ کے محرکوں میں کچھ تاجر بھی ہیں۔کیا وہ اس بات کا ثبوت دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے مال کی زکوۃ دیا کرتے ہیں۔حاجی تو ایک بھی نہیں ملے گا حالانکہ کئی لوگ آپ میں سے آسودہ ہیں اور ان کے لئے حج کرنے میں کوئی دینی یا دنیاوی رکاوٹ نہیں اور یہی حالت دیگر امور مذہبی کا ہے۔پس جب آپ میں سے اکثر بلکہ قریباً تمام کے تمام امور مذہبیہ کے ادا کرنے میں ایسے ست ہیں اور اس کے مقابلہ میں یہیں کے رہنے کی والوں میں سے جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو شناخت کیا ہے وہ صبح و شام اللہ تعالی کی عبادت میں لگے رہتے ہیں اور اس کے لئے اپنے وقت اور اپنے مال بھی قربان کرتے ہیں تو کیا آپ نے کبھی خیال نہیں کیا کہ یہ کیا بات ہے کہ ہم لوگ نمازوں میں ست ہیں بلکہ پڑھتے ہی نہیں اور دوسرے امور مذہبی کی ادائیگی سے بھی غافل ہیں اور اس مدعی کی غلامی میں ہمیں میں سے جو لوگ چلے جاتے ہیں ان کی دینی حالت سنور جاتی ہے اور وہ نماز روزہ کے پابند اور قرآن کریم کے شیدائی ہو جاتے ہیں۔شاید آپ کو آپ کے علماء یہ حدیث سنا دیں کہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ ایک جماعت ایسی پیدا ہوگی کہ جو تم سے لمبی نمازیں پڑھے گی لیکن وہ دین سے خارج ہوگی مگر اول تو اسی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ جماعت حضرت علی کے وقت میں پیدا ہو چکی ہے۔دوسرے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہ اس جماعت کے لوگ نمازیں پڑھیں گے اور تم نہیں پڑھو گے مگر ہو گے تم ہی اچھے بلکہ یہ فرمایا ہے