انوارالعلوم (جلد 4) — Page 59
انوار العلوم جلد ؟ ۵۹ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط - تمام دنیا کے لئے نبی آجائے جس نے کہا کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں اور یہ دنیا لئے دعوئی اگر کسی نبی نے کیا ہے تو وہ ہمارے آنحضرت ا ہی ہیں۔ چنانچہ رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ مجھے دوسرے نبیوں کی نسبت پانچ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم کے لئے بھیجے جاتے تھے ۔ مگر میں تمام جہانوں کے لئے ہوں۔ (بخاری کتاب الصلوة باب قول النبي جعلت لى الارض مسجداً و طهورا ، یہ دعوی آنحضرت سے پہلے کسی نبی نے نہیں کیا کہ میں ساری دنیا کے لئے ہوں اور کسی قوم کا یہ کہنا کہ ہمارا نبی تمام دنیا کے لئے آیا تھا درست نہیں ہو سکتا کیونکہ اس طرح تو مدعی ست گواہ چست والی مثل صادق آئے گی۔ اب بے شک عیسائی صاحبان کہتے ہیں کہ حضرت مسیح تمام دنیا کے لئے بھیجے گئے تھے لیکن ان کے اپنے الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ صرف بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے بھیجے گئے تھے اور ان کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بعثت سارے جہان کے لئے نہ تھی۔ پس یہ بعد کی بنائی ہوئی بات ہرگز سند نہیں ہو سکتی کہ وہ سارے جہان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ اسی طرح کسی نبی کا ایسا دعوی کسی اور مذہبی کتاب میں نہیں پایا جاتا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قرآن کے سوا اور کوئی کتاب خدا کی طرف سے نہیں آئی۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت جتنے مذہب سچے اور خدا کی طرف سے ہونے کے مدعی ہیں ان کی ابتداء خدا کی طرف سے ہوئی ہے اور ان میں جو کتابیں بھیجی گئیں وہ بھی ابتداء میں بچی تھیں لیکن موجودہ صورت میں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے اور نہ ان کا دعوی ہے کہ وہ تمام جہانوں کے لئے ہمیشہ کے واسطے ہیں۔ یہ دعویٰ صرف قرآن کریم کا ہی ہے اور یہ ایسا دعوی ہے جو رب العالمین خدا کی شان کے شایان ہے اور جو لوگ اس کے خلاف تعلیم پیش کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اس صفت کو مد نظر رکھتے تو کبھی حق سے دور نہ ہوتے۔ خدا تعالیٰ کا رب العالمین ہونا ایک اور بات کی طرف بھی ہمیں متوجہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ جس طرح خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر پہلے فضل اور انعام کیا کرتا تھا اب بھی کرے ۔ جو سامان ان کی ربوبیت کے پہلے پیدا کرتا تھا اب بھی پیدا کرے۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو ہی تعلیم دیتے حتی کہ وہ نبی رب العلمین یعنی سب جہانوں کا رب ہے۔ ان جہانوں میں ہم لوگ بھی جو اس خدا تعالیٰ رب اسمین زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں شامل ہیں۔ پس ضروری ہے کہ جس طرح پہلے زمانوں میں انسان کی ہے