انوارالعلوم (جلد 4) — Page viii
انوار العلوم جلد ۲ تعارف کتب فتنے اور فساد مٹ جاتے ہیں گویا اسلامی تعلیم کے مطابق حاکم وقت کی اطاعت کرنا جو مذہبی آزادی اور امن قائم کرتا ہے اس پر احسان نہیں بلکہ احسان شناسی ہے -۲- جماعت قادیان کو نصائح ۱۳۹ اگست ۱۹۱۷ء کو بعد نماز مغرب تبدیلی آب و ہوا کے لئے شملہ روانگی سے قبل حضرت مصلح موعود نے احباب جماعت قادیان کو نصائح فرمائیں جو ۸ ستمبر ۱۹۱۷ء کے الفضل میں شائع ہوئیں۔ حضور نے فرمایا کہ اسلام میں کچھ قواعد مسلمانوں کی ترقی اور فوائد کے لئے ہیں مسلمان جب تک ان پر چلے انہوں نے بہت فائدہ اٹھایا لیکن افسوس بعد ازاں مسلمانوں نے ان قوانین مقدسہ کو بھلا دیا۔ پھر مسیح موعود کی آمد سے اللہ تعالیٰ نے شریعت کو قائم کیا پس ضروری ہوا کہ خدا کے تمام محکموں کی اطاعت کی جائے ۔ ان احکامات کو سمجھنے کے لئے عربی زبان کا سیکھنا بھی لازمی ہے ۔ اگر ماں باپ عربی سیکھ لیں تو آگے ان کے بچے بھی سیکھ جائیں گے۔ یاد رکھیں اللہ کا کوئی حکم بھی نہ تو بوجھل ہے نہ چھوٹا۔ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ قرآن کو عمل کے لئے آسان کر دیا ہے۔ سنت نبوی کے مطابق میں شملہ جانے سے پہلے دو امیر مقرر کرتا ہوں اول قاضی سید امیر حسین صاحب دوئم مقامی امور کے لئے مولوی شیر علی صاحب۔ خلافت اور امارت میں فرق واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ خلیفہ کے ساتھ مذہبی تعلقات بیعت بھی ہوتے ہیں اس لئے لوگ خلیفہ کی پیروی کرتے ہیں اور امیروں کی نہیں۔ میں آپ کو تاکید کرتا ہوں اور رسول کریم" کی پیروی میں کہتا ہوں جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ سروں دوسرے یہ کہ آپس میں محبت اور اور پیار سے رہو لڑائی جھگڑا نہ کروا۔ را نہ کرو اپنے آپ کو دو سرد کے لئے نمونہ بناؤ - اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو اصلاح کا ذمہ دار ٹھرایا آپ جس مقام پر رہتے ہیں اسے مقدس فرمایا۔ اسے اسلام کی آئندہ ترقیات کا (جو مقدر ہیں) مرکز بنایا اس لئے آپ کی ہر حرکت، ہر فعل، ہر قول نمونہ ہونا چاہئے آپ کی ذمہ داریاں بڑی ہیں تمام قسم کے عیوب