انوارالعلوم (جلد 4) — Page 48
لوم جلد ۳ تقویٰ حاصل کرنا عورتوں کا دین۔اس کے علاوہ تقویٰ اللہ حاصل کرنا ایک نہایت ضروری چیز ہے کیونکہ اسلام صرف باتیں سنانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ انسان کو خدا کا خوف اور محبت اپنے دل میں پیدا کرنی چاہئے۔اس لئے یہ نہایت ضروری ہے اور جب تک یہ نہ ہو کوئی عمل عمل نہیں کہلا سکتا۔نماز نماز نہیں کہلا سکتی۔روزہ روزہ نہیں کہلا سکتا۔زکوٰہ زکوۃ نہیں کہلا سکتی۔حج حج نہیں کہلا سکتا کیوں؟ اس لئے کہ نماز اس غرض کے لئے نہیں رکھی گئی کہ انسان کی ورزش ہو۔روزہ اس لئے نہیں کہ انسان کو بھوکا پیاسا رکھا جائے۔زکوة اس لئے نہیں کہ مالی نقصان ہو اور حج اس لئے نہیں کہ سفر کی صعوبت برداشت کرنی پڑے بلکہ ان کی غرض اللہ کا تقویٰ اور نیکی پیدا کرنا ہے۔حسد و کینہ لڑائی اور فساد بدی اور برائی وغیرہ وغیرہ بری باتوں سے بچا کر انسان کو متقی بنانا ہے کیونکہ یہی سب نیکیوں کی جڑ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے۔ہر اک نیکی کی جڑ اگر جڑ رہی کچھ ہے رہا ہے تو یہ بہت ضروری چیز ہے اس کے لئے سوچنا چاہئے کہ ہمارے کسی کام کا یہ نتیجہ نہ ہو کہ خدا تعالٰی ناراض ہو جائے یا کسی انسان کو تکلیف پہنچے۔آج کل عورتوں میں یہ بات زیادہ پائی جاتی ہے کہ وہ دوسری کو تکلیف پہنچا کر خود کچھ حاصل کر لینا اچھا سمجھتی ہیں۔مگر تقویٰ ایسا کرنے سے روکتا ہے۔پھر عورتیں ایک دوسرے کو طعنے دیتی ہیں ہنسی کرتی رہتی ہیں اور عیب نکالتی ہیں اور آخر کار لڑائی شروع کر دیتی ہیں یہ سب باتیں تقویٰ کے خلاف ہیں۔اس قسم کے عیب تو عورتوں میں بہت سے ہیں۔اگر ان کو بیان کرنے لگوں تو بہت دیر لگے گی اور آج میرے حلق میں درد بھی ہے۔اس لئے میں نے یہ اصل بتا دیا ہے کہ ہر ایک ایسا کام جس سے خدا ناراض ہو یا خدا کی کسی مخلوق کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث ہو اس سے بچنا چاہئے۔اگر یہ بات پیدا ہو جائے تو تقویٰ اللہ حاصل ہو جاتا ہے۔یہ چند ایک باتیں ہیں جو میں نے نصیحت کے طور پر بیان کر دی ہیں اگر ان کو یاد رکھوگی خاتمہ اور ان کے مطابق عمل کرو گی تو فائدہ اٹھاؤ گی۔الفضل ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۷ء)