انوارالعلوم (جلد 4) — Page 633
۶۳۳ واقعات خلافت علوی بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ واقعات خلافت علوی ۱۷ فروری ۱۹۲۰ء کو شام کے سوا سات بجے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا لیکچر اسلامیہ کالج لاہور کی مارٹن ہسٹا ریکل سوسائٹی کے زیر انتظام کالج کے حبیبیه ہال میں زیر صدارت خان بهادر شیخ عبد القادر صاحب بی۔اے بیر سٹرایٹ لاء ہوا۔داخلہ کے لئے دو آنے کا ٹکٹ مقرر تھا۔سامعین اس کثرت سے آئے کہ تمام ہال بھر گیا اور لیکچر شروع ہونے پر لوگوں کے داخلی ہونے کی جگہ بالکل نہ رہی۔جلسہ کا افتتاح مکرم حافظ روشن علی صاحب نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔اور ان کے بعد خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے لیکچر کے شروع کرنے کی درخواست کرتے ہوئے فرمایا۔میں سب سے پہلے مارٹن ہسٹا ریکل سوسائٹی کا شکریہ ادا کرتا صدر جلسہ کی افتتاحی تقریر ہوں کہ اس کے منتظمین نے ایک ایسے عظیم الشان جلسہ میں جیسا کہ یہ ہے مجھے صدارت کی عزت بخشی ہے۔اس شکریہ کا اظہار کرنے کے بعد سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بہت بہتر ہو تا اگر دوست ایسے مبارک موقع کے واسطے جس میں ہمارے کثیر التعداد بھائیوں کے معزز و محترم اور مقتداء ، پیشوا اور راہ نما تقریر فرمائیں گے صدارت کے لئے کسی ایسے شخص کو منتخب کیا جاتا جو بحیثیت عالم دین کے اس کے لئے موزوں و مناسب ہو تا۔لیکن یہ ان کا اپنا انتخاب ہے جو ان کے نقطہ خیال پر مبنی ہے کہ انہوں نے مجھے یہ عزت بخشی ہے۔میں اپنے عجز اور ناموزونیت کا اعتراف کرتے ہوئے دوبارہ ان اصحاب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے منتخب کیا ہے۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نام میری تعریف اور توصیف کا محتاج نہیں ہے آپ لوگ خوب واقف ہیں۔ان کا اس قدر کثیر مجمع کے ساتھ یہاں تشریف فرما ہونا ثبوت ہے اس بات کا کہ آپ کی ذات اور آپ کے کلام کا ان