انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 623

العلوم جلد ۴ ۶۲۳ تقدیراتی ہوتا ہے۔اس مقام کے لوگوں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی شراب پی کر بالکل ہی بے خبر ہو جائے۔اسی طرح اس مقام پر پہنچے ہوئے لوگ خدا تعالیٰ کی محبت سے مخمور ہو کر دنیا سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں۔اور جب ان کی یہ حالت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ ان کا ہر ایک کام کرتا ہے۔نادان لوگ کہتے ہیں کہ اس نشہ کی حالت میں اولیاء اللہ جو چاہیں کہہ دیتے ہیں اور خلاف شریعت باتیں بھی ان کے مونہہ سے نکل جاتی ہیں۔اور بعض اسی خود ساختہ مسئلہ کی آڑ میں کہہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب بھی اس مقام پر پہنچ کر دھوکے میں پڑ گئے اور بعض خلاف شریعت دعوی کرنے لگے اس لئے ان کے وہ دعوے قابل قبول نہیں۔مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا تعالی کی پلائی ہوئی شراب کو دنیا و مافیہا سے غافل کر دیتی ہے مگر عقل نہیں مارتی اور نہ دین سے غافل کرتی ہے۔اس شراب کے پینے سے تو دین کی آنکھ اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔اور یہ وہ شراب ہوتی ہے کہ اس کے پینے سے تقویٰ اور طہارت بہت بڑھ جاتی ہے۔مگر یہ لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کی شراب کا قیاس اس شراب پر کرتے ہیں جو گندم یا گر کو سڑا کر بنائی جاتی ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی پلائی ہوئی شراب سے مراد وہ محبت کا جام ہے جو وہ اپنے برگزیدوں کو نا ہے اور جو ایک طرف اگر بندہ کے دل سے دنیا کا خیال محو کر دیتا ہے تو دوسری طرف اللہ پلاتا۔تعالیٰ اور اس کے جلال کا نقش اس کے دل پر اور بھی گہرا کر دیتا ہے۔اس کے بعد تقدیر پر ایمان انسان کو اور اوپر لے جاتا ہے اور وہ درجہ عبد پر درجه چهارم پہنچ جاتا ہے۔اس درجہ کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی پرانا شرابی اس قدر شراب کا عادی ہو جاتا ہے کہ بوتلوں کی بوتلیں انڈیل جاتا ہے مگر اسے نشہ نہیں آتا۔اس درجہ پر پہنچنے والا انسان بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی شراب اس قدر پیتا ہے کہ اب وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس حالت سے اوپر آجاتا ہے جو اسے پچھلے درجہ میں حاصل ہوئی تھی۔اور اب یہ اس درجہ فنا سے جس پر پہلے تھا اوپر چڑھ جاتا ہے اور بے خودی کا رنگ جاتا رہتا ہے بلکہ جو اس تیز ہو جاتے ہیں اور یہ اپنے آپ کو عبودیت کے مقام پر کھڑا پاتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی شان کو ایک اور نقطہ نظر سے دیکھنے لگتا ہے اور اپنے عبد ہونے کی طرف اس کی توجہ رجوع کرتی ہے اور یہ اپنے نفس کو کہتا ہے کہ میں تو عبد ہوں، غلام ہوں ، میرا کیا حق ہے کہ اپنے آپ کو اپنے آقا پر ڈال دوں۔اور یہ خیال کر کے وہ پھر تدبیر کی طرف یعنی تقدیر عام کی طرف لوٹتا ہے اور گو یہ سلسلہ روحانی کا نیا دور بھی اسی طرح تقدیر عام سے شروع ہوتا ہے جس طرح پہلا دور اس۔