انوارالعلوم (جلد 4) — Page 607
انوار العلوم جلد ۴ ५०८ تقدیر الهی کا ایک لڑکا مر گیا۔ حضرت صاحب اپنے بھائی کے ساتھ ان کے ہاں ماتم پرسی کے لئے گئے۔ ان میں قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص آتا اور اس سے ان کے بہت دوستانہ تعلقات ہوتے تو اس سے بغل گیر ہو کر روتے اور چیخیں مارتے۔ اس کے مطابق انہوں نے حضرت صاحب کے بڑے بھائی سے بغل گیر ہو کر روتے ہوئے کہا کہ خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت صاحب کو ایسی نفرت ہو گئی کہ ان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بعد میں خدا نے انہیں توفیق دی اور وہ ان جہالتوں سے نکل آئے۔ غرض تقدیر کے مسئلہ کے غلط سمجھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر یہ ظلم کیا وہ ستم کیا اور اس طرح خدا کو گندی سے گندی گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے ان افعال کا الزام ان پر ہے جنہوں نے ان کے دلوں میں یہ خیال ڈال دیا ہے کہ سب کچھ خدا کرتا ہے۔ اس خیال کو رکھ کر جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں خدا نے ہم پر یہ ظلم کیا ہے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ایمان بالقدر کی ضرورت کیا ہے؟ میں ایمان بالقدر کی ضرورت نے بتایا ہے قدر نام ہے صفات الہیہ کے ظہور کا۔ اور جب تک کوئی انسان اس پر ایمان نہیں لاتا اس کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ پس تقدیر ایمان کی تقویت اور تکمیل کا ذریعہ ہے۔ اگر یہ مسئلہ نہ ہوتا تو پہلا نقص یہ ہو تا کہ ایمان نا مکمل رہ جاتا۔ اگر تقدیر الہی جاری نہ ہوتی تو کیا کیا نقصان ہوتا ہو تا کہ اگر انسان تقدیر نہ نہ دین ہوتی میں تو ملکہ پہلا نقصان پاکستان یہ ہوتا دنیا انسان دین مسکھ نہ میں۔ میں نے بتایا ہے کہ ایک تقدیر یہ ہے کہ آگ جلائے ۔ پانی پیاس بجھائے یعنی وہ احکام جن کے ذریعہ سے خواص الاشیاء مقرر کئے گئے ہیں۔ اسی قاعدہ سے فائدہ اٹھا کر دنیا اپنا کاروبار کر رہی ہے۔ ایک زمیندار گھر سے دانہ لے جاکر زمین میں ڈالتا ہے۔ گویا بظاہر اس کو ضائع کرتا ہے۔ مگر کیوں؟ اس لئے کہ اسے امید ہے کہ اگ کر ایک دانہ کے کئی کئی دانے بن جائیں گے۔ لیکن اسے یہ امید اور یہ یقین کیوں ہے؟ اس لئے کہ اس کا باپ اس کا دادا اس کا پڑدادا جب جب اس طرح کرتا رہا ہے ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اور خدا نے یہ قانون مقرر کر دیا ہے کہ جب دانہ زمین میں ڈالا جائے تو اس کے اُگنے سے کئی دانے پیدا ہو جائیں۔ لیکن اگر یہ قاعدہ مقرر نہ ہوتا بلکہ اس طرح ہوتا کہ زمیندار کو کنک (گندم) کی ضرورت ہوتی اور وہ کنک ہوتا تو کبھی کنک اگ آتی کبھی کیکر اگ آتا کبھی انگور کی بیل نکل آتی وغیرہ۔ تو کچھ مدت کے بعد