انوارالعلوم (جلد 4) — Page 602
انوار العلوم جلد ۴ ۶۰۲ زیر الهی لئے اس کا نتیجہ خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔باقی جت القلم اور اسی قسم کی اور حدیثیں ان کے متعلق اول تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کو قرآن کریم کے ماتحت لانا پڑے گا اور ایسے ہی معنی کئے جائیں گے جو قرآن کریم کی آیات کے مطابق ہوں اور وہ معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ یا تو اس سے تقدیر عام مراد ہے یعنی قانون قدرت اور اس میں کیا شک ہے کہ قانون قدرت ابتدائے افرینش سے مقرر چلا آیا ہے یا اس سے مراد ہر ایک عمل نہیں بلکہ خاص تقدیر مراد ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ خاص تقدیر میں اللہ تعالی ہی جاری کرتا ہے یا پھر اس سے علم الہی مراد ہے۔یہی وہ باتیں ہیں جو لوح محفوظ پر لکھی ہوئی ہیں۔۔اب میں ایک خاص شبہ بیان کرتا ہوں۔جو تقدیر کے متعلق تعلیم یافتہ طبقہ میں پھیلا ہوا ہے۔آج کل جہاں لوگوں میں تحقیقات کا مادہ بڑھ گیا ہے وہاں وہ ہر ایک کام کے متعلق معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں ہوا۔مثلا دانہ اگتا ہے۔اس کے متعلق تحقیق کی گئی ہے کہ کیوں اگتا ، تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ جب دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو فرشتہ کھینچ کر اس سے بال نکال دیتا ہے۔لیکن اب اس قسم کی باتیں کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ کیوں اگتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اسی طرح یہ تحقیقات کی جاتی ہیں کہ فلاں چیز کہاں سے آئی۔مثلاً کہتے ہیں۔پہلے دھوپ ہوتی ہے پھر اچانک بادل آجاتا ہے۔یہ کہاں سے آتا ہے؟ علوم جدیدہ کے ماننے والے کہتے ہیں۔بادل کئی دن سے بن رہا تھا اور کہیں دور دراز سے چلا ہوا تھا جو اس وقت ہمارے سروں پر آگیا۔یا ہمارے اوپر کی ٹھنڈک اور خنکی سے ان ابخرات سے جو دور سے چلے آرہے تھے یہاں آکر بادل بن گیا۔ان لوگوں کے سامنے اگر بیان کیا جائے کہ بارش کے لئے دعا کی گئی تھی اور بادل آگیا تو وہ اس پر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا تو اس کے وقت کی گئی تھی اور بادل اس سے کئی دن پہلے بن کر چلا ہوا تھا۔پھر اس کا آنا دعا کے اثر سے کس طرح ہوا ؟ اس قسم کے اعتراضات آج کل کئے جاتے ہیں مگر یہ سب باطل ہیں۔ہم یہ مانتے ہیں کہ بادل کے آنے کا سبب موجود ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو دس لاکھ یا دس کروڑ سال یا جو وقت بھی مقرر کیا جائے اس سے پہلے معلوم تھا یا نہیں کہ فلاں وقت اور فلاں تو موقع پر میرا فلاں بندہ دعا کرے گا۔پھر اسے یہ خبر بھی تھی یا نہیں کہ اس وقت مجھے اس کی مدد کرنی ہے۔اگر خبر تھی تو خواہ جس قدر عرصہ پہلے بادل تیار ہوا اسی لئے تیار ہوا کہ اس وقت