انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 599

العلوم جلد ۵۹۹ تقدیر الهی میرا کیا بس تھا۔یہ خدا تعالٰی کی بے ادبی اور گستاخی ہے۔کیونکہ یہ غلط ہے کہ برے کاموں کے متعلق خدا تعالیٰ کی تقدیر جاری ہوتی ہے۔ہاں بری تقدیر شیطان کی طرف سے ان لوگوں پر جاری ہوتی ہے جو اس کے بندے بن جاتے ہیں اور ایک وقت ان پر ایسا آتا ہے کہ اگر اس وقت چاہیں بھی کہ شیطان کے پنجے سے نکل جائیں تو آسانی سے نہیں نکل سکتے۔یعنی وہ ایک گناہ کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن اس کا چھوڑنا ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔پھر ان کی حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ شیطان کے پنجہ سے چھوٹا نہیں چاہتے اور اس کے ساتھ مل جاتے ہیں۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسئلہ تقدیر پر اگر ہم ایمان نہ لائیں یا یہ خدا کی طرف سے جاری نہ ہو تو کیا نقصان ہوتے ہیں۔اور اس پر ایمان لانے اور اس کے جاری ہونے کے کیا فوائد ہیں؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے لیکن افسوس کہ ظاہری صوفی اور ملاں اس طرف گئے ہی نہیں۔1 (چونکہ وقت بہت ہو گیا تھا اور سردی سخت تھی۔نیز ابھی تقریر کا بہت سا حصہ باقی تھا۔اس لئے بقیہ حصہ دوسرے دن پر رکھا گیا اور اسی جگہ تقریر ختم ہوئی۔اور اس سے اگلا حصہ ہے جو دوسرے دن بیان کیا گیا۔) میرا منشاء تھا کہ تقدیر کے مسئلہ کی مسئلہ تقدیر کے متعلق بعض شبہات کا ازالہ تشریح بیان کرنے کے بعد اس پر ایمان لانے کے فوائد بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کروں اور آج اسی مضمون کو شروع کرنے کا ارادہ تھا مگر آج ایک صاحب نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں اس لئے پہلے مختصر طور پر ان کا جواب بیان کر دیتا ہوں۔یہ صاحب پوچھتے ہیں کہ شیطان کو گمراہ کرنے کی طاقت کہاں سے ملی؟ میں نے کل بیان کیا تھا کہ جب انسان اپنے خیالات کو شیطانی بنالیتا ہے تب شیطان سے لگاؤ پیدا ہو جانے کی وجہ سے شیطان کو بھی اس سے تعلق ہو جاتا ہے اور وہ بھی اسے گمراہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔پس یہ گمراہی در حقیقت خود انسان کے نفس سے ہی پیدا ہوتی ہے۔میں اس کی مثال دیتا ہوں۔مثلاً ایک شرابی دوسرے شرابی کو اپنے ساتھ لے جائے اور وہ شخص جدھر جدھر یہ شخص شراب پینے کے لئے جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جائے تو گو وہ یہ کہے میں اس کا تابع ہوں