انوارالعلوم (جلد 4) — Page 598
انوار العلوم جلد ۴ ۵۹۸ تقدیر الی محروم کر دیا جائے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تقدیر اور اکتاب ایک ہی وقت جاری ہوتے ہیں۔مگر تقدیر علیحدہ علیحدہ رنگ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوتی ہے اس کے ساتھ بندہ کی تدبیر مل کر انسانی اعمال مکمل ہوتے ہیں۔اور ایک تقدیر وہ ہوتی ہے جس میں بندہ کے اعمال کا بالکل دخل نہیں ہوتا۔لیکن یہ تقدیر اعمال کی جزاء کے متعلق جاری ہوتی ہے اور اگر کبھی اعمال کے متعلق جاری ہو تو ایسے اعمال کے متعلق انسان کو کسی قسم کی پرسش نہیں ہوتی بشرطیکہ وہ اعمال بعض دوسرے اعمال کا نتیجہ اور جزاء نہ ہوں۔حج ، نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ اور جھوٹ، زنا، ڈاکہ وغیرہ سب انسان کے کام ہیں جن میں اکتساب کے طور پر اپنی مرضی کے ماتحت انسان عمل کرتا ہے اس لئے ان کے متعلق جزاء و سزا کا مستحق ہے۔باوجود اس کے ایک نادان اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ سے خدا چوری یا زنا کراتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر بدیوں کے لئے جاری نہیں ہوتی۔وہ پاک ہے اس لئے وہ پاک ہی کام کرائے گا۔اگر خدا کی تقدیر جاری ہوئی ہوتی تو ہر انسان سے نیک ہی کام کراتی جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے۔وَلَوْ شِئْنَا لَا تَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدمها (السجدة : (۱۴) کہ اگر ہم جبر کرتے تو سب کو مسلمان بناتے کافر کیوں بناتے۔پس اگر خدا کا انسان پر جبر تھا تو چاہئے تھا کہ ہر ایک سے نیک ہی اعمال کراتا۔مگر تعجب ہے که انسان ناپاک فعل خدا تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھ سے چوری کرائی میرا اس میں کیا دخل تھا؟ حالانکہ وہ ناپاک تقدیر اپنے اوپر خود جاری کرتا ہے۔پس یہ غلط ہے کہ خدا بھی گندی تقدیر جاری کرتا ہے تاکہ انسان برے فعل کرے۔ہاں ایک گندی تقدیر ہے ضرور جو شیطان جاری کرتا ہے اور اس کے ماتحت اپنے چیلوں سے کام لیتا ہے۔چنانچہ خدا تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں۔ایسے لوگ چونکہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کے پیرو بن جاتے ہیں اس لئے خدا بھی ان کو چھوڑ دیتا ہے اور شیطان ان پر اپنی تقدیر جاری کرنا شروع کر دیتا ہے۔پس وہ شخص جو برے فعل کر کے کہتا ہے کہ یہ کام مجھ سے خدا کراتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی سخت گستاخی کرتا ہے۔ہمارے ملک میں تو محاورہ ہے کہ جب کسی سے برا نعل سرزد ہو جاتا ہے تو کہتا ہے تقدیری امر تھا