انوارالعلوم (جلد 4) — Page 595
انوار العلوم جلد ۴ ۵۹۵ تقدیر الهی اور وہ یہ کہ اس ذریعہ سے وہ وہ اصل غرض جس کے لئے خواب یا الہام ہوتا ہے زیادہ اچھی طرح پوری ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ وہ منذر خواب یا الہام جن میں آئندہ کی کوئی خبر بتائی جاتی ہے ان میں علاوہ اور اغراض کے ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بندہ جس کے متعلق اس خواب یا الہام میں کوئی خبر دی گئی ہے۔ ہوشیار ہو جائے اور اپنی اصلاح کی فکر کرے اور اگر اصلاح نہ کرے تو اس پر حجت قائم ہو جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةً بَعْدَ الرُّسُلِ (النساء : ١٦٦) یعنی ہم نے مذکورہ بالا رسولوں کو (جن کا اس آیت میں پہلے ذکر ہوا ہے) بھیجا بشارت دیتے ہوئے اور منکروں کو ڈراتے ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہ رہے۔ غرض انذاری پیشگوئیاں حجت کے قیام کے لئے ہوتی ہیں اور ان کے ذریعہ سے اس شخص کو جس کے خلاف وہ پیشگوئیاں کی جاتی ہیں اصلاح کا آخری موقع دیا جاتا ہے اور بصورت دیگر اس پر حجت قائم کی جاتی ہے۔ اور یہ بات ثابت ہے کہ اگر کسی شخص کو مثلاً اس کی اپنی ذات کے متعلق یہ نظارہ دکھایا جائے کہ اس کو تپ چڑھا ہوا ہے اور وہ خواب میں تپ کی تکلیف کو دیکھے تو اس پر اور ہی اثر ہو گا۔ یہ ہو گا۔ یہ نسبت اس کے کہ اس کو کوئی شخص کہہ دے کہہ دے کہ تیرے ۔ ے حالات ایسے ہیں کہ تجھے تپ چڑھنے کا احتمال ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ بتایا جائے کہ فلاں شخص کو اس کی بے دینی کی وجہ سے سزا کا احتمال ہے تو اس کا اور اثر ہو گا بہ نسبت اس کے کہ اس کو یہ بتایا جاوے کہ اس شخص کے لئے سزا مقدر ہو چکی ہے اور جب کہ اس کے اعمال کی وجہ سے سزا مقدر ہو بھی چکی ہو تو پھر حق بھی یہی ہو گا اور اسی رنگ میں بتایا جانا ضروری ہے۔ اگر یہ شبہ کیا جائے کہ کیوں خدا تعالٰی رہی بات نہیں بتا دیتا جو آخر میں ہوئی ہوتی ہے۔ درمیانی حالت بتاتا ہی کیوں ہے کہ لوگ شبہ میں پڑ جاویں۔ تو اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں پیشگوئیوں کی غرض اصلاح ہوتی ہے۔ پس اگر تقدیر کا وہ پہلو بتایا ہی نہ جاوے جس نے بدل جاتا ہے تو لوگوں کو اصلاح کی تحریک کس طرح کی جائے؟ در حقیقت تقدیر کے اس قسم کے اظہار سے ہزاروں آدمیوں کی جان بچ جاتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا رحم اس کا محرک ہے۔ دوسرے جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ہیں ایک علیم ہوتا اور ایک قادر ہونا۔ اگر تقدیر کا وہی حصہ بتایا جائے جو بدلتا ہی نہیں تو اس سے خدا تعالیٰ کا