انوارالعلوم (جلد 4) — Page 594
انوار العلوم جلد " ۵۹۴ تقدیر الهی سے کس طرح شبہ پڑ سکتا ہے جب کہ اس کے بالمقابل تمام کی تمام وعدہ والی پیشگوئیاں اور نوے یا پچانوے فیصدی انداری پیشگوئیاں پوری ہو کر روز روشن کی طرح اس پیشگوئی کرنے والے کی صداقت کی تصدیق کر رہی ہوتی ہیں۔تیسرے تقدیر خاص کے ماتحت جو خبریں دی جاتی ہیں اور انہی کے متعلق مخالفوں کو زیادہ شبہ پڑتا ہے یہ طبعی امور کے نتیجہ میں نہیں ہوتیں بلکہ روحانی امور کے نتیجہ میں ہوتی ہیں۔مثلاً ام کے متعلق جو خبر دی گئی کہ رسول کریم ﷺ کی گستاخی کی سزا میں وہ قتل کیا جائے گایا آتھم کی نسبت کہ وہ آپ کی گستاخی کی سزا میں ہادیہ میں گرایا جائے گا یا احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق کہ وہ مر جائیں گے۔تو یہ سزائیں کسی طبعی امر کے نتیجہ میں نہیں تھیں۔اگر لیکھرام نے کوئی قتل کیا ہوا ہوتا اور کہا جاتا کہ وہ قتل کیا جائے گا تب اور بات تھی۔یا اسی طرح آتھم اور احمد بیگ کے متعلق کوئی ایسی سزا تجویز کی جاتی جو طبعی امور کا نتیجہ ہوتی تب اعتراض ہو سکتا تھا۔مگر جن جرموں کے بدلہ میں سزائیں مقرر کی گئی ہیں وہ روحانی ہیں اور ایسی اخبار میں سے اگر بعض بھی پوری ہو جائیں تو وہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ ان کے بتانے والا خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا تھا کیونکہ اگر یہ نہ ہو تا تو وہ ایسی باتیں کس طرح بتا سکتا تھا جن کا ثبوت طبعی امور میں نہیں ملتا۔روحانی گناہوں کی سزا تو اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے۔دوسرا شخص ایک روحانی گناہ گار کو دیکھ کر کیا بتا سکتا ہے کہ اسے سزا کس رنگ میں ملے گی ؟ اگر یہ کہا جائے کہ یہ جو تم نے بیان کیا ہے کہ بہت دفعہ ایک خبر جو دی جاتی ہے وہ موجودہ حالات کا نقشہ ہوتی ہے یعنی اس میں بتایا جاتا ہے کہ اس وقت جن حالات میں سے یہ گزر رہا ہے ان کا یہ نتیجہ ہو گا تو کیوں نہیں صاف صاف یہ بتا دیا جاتا کہ تمہاری یا فلاں شخص کی موجودہ حالت کا یہ نتیجہ ہے تاکہ لوگوں کو خوابوں اور الہاموں پر شبہ نہ پڑے۔اگر اسی طرح صاف صاف بتا دیا جائے تو پھر لوگوں کو کوئی ابتلاء نہ آئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو جن لوگوں کے دل میں مرض ہوتی ہے ان کو ہر حالت میں شبہ پڑ جاتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت صاحب کی جن پیشگوئیوں میں صاف طور پر یہ شرط بنادی گئی تھی ان پر بھی لوگ معترض ہیں۔طاعون کی پیشگوئی میں صاف کہہ دیا گیا تھا کہ قادیان میں ایسی طاعون نہ پڑے گی کہ دوسرے گاؤں کی طرح اس میں تباہی آجائے مگر پھر بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک کیس بھی یہاں نہ ہونا چاہئے تھا۔دوسرے اس طریق کے اختیار کرنے میں ایک فائدہ بھی ہے