انوارالعلوم (جلد 4) — Page 591
۵۹۱ تقدیرانی ٹلا کرتی ہے وعدہ کی نہیں۔کیونکہ اس پیشگوئی کا ٹلنا رحم کا موجب ہوتا ہے اور اس سے خدا تعالی کی شان ظاہر ہوتی ہے۔لیکن جو مؤمن کے حق میں تقدیر خاص ظاہر ہوتی ہے وہ چونکہ وعدہ ہوتی ہے وہ نہیں ملتی۔کیونکہ اس کے ملنے سے اظہار شان نہیں ہوتی۔اور اس لئے بھی کہ وعید ہمیشہ کسی سبب سے ہوتا ہے۔اور اس سبب کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔اور وعدہ کبھی بلا سبب بھی ہوتا ہے اس لئے وہ نہیں مل سکتا کیونکہ جس چیز کو اپنے طور پر بلا خدمت کے دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے اسے کسی اور سبب سے روک دینا خدا تعالی کی شان کے خلاف ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ تقدیر مبرم سوائے خاص حالات کے نہیں ملا کرتی۔اور تقدیر مبرم اب میں بتاتا ہوں کہ تقدیر مبرم کے ٹلنے سے کیا مراد ہے۔تقدیر مبرم کے ملنے سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ واقع میں کلی طور پر ٹل جاتی ہے۔بلکہ اس کے ملنے سے صرف یہ مراد ہے کہ اس کی شکل بدل جاتی ہے اور اسے کسی اور رنگ میں بدل دیا جاتا ہے۔یہ تقدیر باریک درباریک رازوں کے ماتحت نازل ہوتی ہے۔اور اس کے بدلنے سے بعض دفعہ اور بہت سے قوانین پر اثر پڑتا اور بد انتظامی ہوتی ہے۔پس یہ تقدیر اللہ تعالیٰ کی خاص حکمتوں کے ماتحت کلی طور پر ٹلائی نہیں جاتی۔اور اگر ملتی ہے تو شفاعت کے ماتحت ملتی ہے جو ایک خاص مقام ہے اور جب سے دنیا قائم ہوئی ہے صرف چند بار ہی اس مقام پر خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قائم کیا ہے۔اس تقدیر کے جزئی طور پر ٹل جانے کی مثال حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں آپ کا ایک مرید تھا جس سے انہیں بہت محبت تھی۔اس کے متعلق انہیں خبر دی گئی کہ وہ ضرور زنا کرے گا اور یہ تقدیر مبرم ہے۔انہوں نے اس کے متعلق متواتر دعا کرنی شروع کی اور ایک لمبے عرصہ کے بعد ان کو اطلاع ملی کہ ہم نے اپنی بات بھی پوری کر دی اور تیری دعا کو بھی سن لیا۔وہ حیران ہوئے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔جب وہ مرید ملنے آیا تو انہوں نے اس کو سب حال بتایا کہ اس طرح مجھے تیری نسبت اطلاع ملی تھی۔میں نے تجھے بتایا نہیں اور دعا کرتا رہا۔اب یہ خبر ملی ہے کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ ایک عورت پر میں عاشق ہو گیا تھا۔نکاح کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔آخر فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہی ہو اس سے زناہی کرلوں گا۔اسی کوشش میں تھا کہ رات کو رویا میں وہ نظر آئی اور میں اس سے ہم