انوارالعلوم (جلد 4) — Page 586
لوم جلد ۴ ۵۸۶ نقد برائی اثر شرعی احکام کے بجالانے یا ان کے توڑنے پر ظاہر ہوتا ہے اور طبعی تقدیر کا اثر اس کے احکام کے بجالانے یا ان کے توڑنے پر ظاہر ہوتا ہے۔بچے جو اندھے پیدا ہوتے ہیں یا اپاہج پیدا ہوتے ہیں وہ شرعی تقدیر نہیں بلکہ طبعی تقدیر کے ٹوٹنے کی وجہ سے اندھے یا اپاہج ہوتے ہیں۔طب سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ماں باپ کے پر ہیز کا اثر بھی اور ان کی بد پرہیزی کا اثر بھی بچوں پر پڑتا ہے۔بعض عورتوں کے رحم میں کمزوری ہوتی ہے تو ان کے بچے ہمیشہ اپاہج اور عیب دار پیدا ہوتے ہیں۔خصوصاً بعض بیماریاں تو بچوں پر بہت ہی برا اثر کرتی ہیں۔مثلاً سل خنازیری ماده آتشک ، ہسٹیریا جنون وغیرہ۔پس بچہ کا عیب دار اور ناقص ہونا کسی پچھلے گناہ کی سزا میں نہیں ہو تا بلکہ اس کے ماں باپ کے کسی جسمانی نقص کی وجہ سے ہوتا ہے یا ایام حمل کی بعض بد پرہیزیوں کے سبب سے ہوتا ہے۔اور چونکہ بچہ کی پیدائش ماں باپ کے ہی جسم سے ہوتی ہے اس لئے ان کے جسمانی عیوب یا جسمانی خوبیوں کا وارث ہونا اس کے لئے ضروری ہے۔کیونکہ بچہ ماں باپ کے اثر سے تبھی متاثر نہ ہو گا جب خدا تعالیٰ قانون قدرت کو اس طرح بدل دے کہ ایک شخص کے کام کا اثر دوسرے پر نہ پڑے۔اور اگر یہ قانون جاری ہو جائے تو سمجھ لو کہ موجودہ کارخانہ عالم بالکل درہم برہم ہو جائے۔کیونکہ تمام کارخانہ عالم اسی رو قانون پر چل رہا ہے کہ ایک چیز دوسری کے نیک یا بد اثر کو قبول کرتی ہے۔سری وجہ جس سے اہل ہنود کو اس مسئلہ کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے یہ ہے کہ انہوں نے خیال کیا ہے کہ روحیں کہیں جمع کر کے رکھی ہوئی ہیں اور اللہ تعالی پکڑ پکڑ کر ان کو عورتوں کے رحم میں ڈالتا ہے۔حالانکہ اس سے بیہودہ عقیدہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس عقیدہ کو مان ر پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ ہی کرواتا ہے۔کیونکہ ایک روح کے جسم میں آنے کا اگر وقت آگیا اور اس وقت وہ شخص جس کا پیدا کرنا منظور ہو وہ کہیں سفر پر گیا ہوا ہو یا اس نے شادی ہی نہ کی ہو تو پھر وہ روح کیونکر آسکتی ہے۔پس اس عقیدہ کے ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام اعمال انسان سے اللہ تعالی ہی کراتا ہے اور تمام دنیاوی اعمال بھی خدا تعالی کے حکم سے مجبور ہو کر اسے کرنے پڑتے ہیں۔اور اس طرح انسان کی وہ آزادی عمل جس کی وجہ سے وہ جزاء و سزا کا مستحق ہوتا ہے برباد ہو جاتی ہے۔دوسرا نقص اس عقیدہ کی وجہ سے یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے ایک مشاہدہ شدہ امر کا انکار کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ ہے کہ در حقیقت روح نتیجہ ہے اس تغیر کا جو نطفہ رحم مادر میں پاتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس