انوارالعلوم (جلد 4) — Page 563
انوار العلوم جلد ۵۶۳ تقدیرانی چوتھی قسم تقدیر کی تقدیر خاص شرعی ہے۔جس کے معنی ہیں کہ خاص طور پر کسی بندہ پر اللہ تعالیٰ فضل کرے جو بطور موہت ہو جیسے کلام الہی کا نزول کہ اس کی نسبت اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔الرَّحْمَنُ ، عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمن: ۲-۳) یہ چار اقسام تقدیر کی ہیں جن کے سمجھانے اور ذہن نشین کرانے کے لئے میں نے الگ الگ نام رکھ دیئے ہیں۔(۱) تقدیر عام طبعی۔(۲) تقدیر خاص طبعی (۳) تقدير عام شرعی (۴) تقدیر خاص شرعی۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف تقدیر عام طبعی جسمانی تعلقات سے ظاہر ہوتی ہے اور دوسری تمام اقسام تقدیر کی خواہ تقدیر خاص طبعی ہو یا تقدیر عام شرعی اور تقدیر خاص شرعی ان سب کا ظہور روحانی تعلقات کی بناء پر ہوتا ہے۔یعنی ان کے ظہور کا باعث دنیوی اسباب نہیں ہوتے بلکہ وہ روحانی تعلقات جو بندہ کو اللہ تعالیٰ سے ہوتے ہیں یا جو اللہ تعالیٰ کو بندہ سے ہوتے ہیں۔پس یہ تقدیر یا مؤمنوں کی ترقی کے لئے ظاہر ہوتی ہے یا کافروں کی ذلت کے لئے یا عام لوگوں کے لئے بطور رحم کے۔تقدیر کی ان اقسام کے سوا کوئی ایسی تسم تقدیر کی نہیں ہے جو انسان کو مجبور کرتی ہے کہ چوری کرے ، ڈاکہ مارے زنا کرے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ خدا مجبورا ایسا کراتا ہے وہ جھوٹ کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں۔یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ تقدیر کی کس قدر اقسام ہیں اس بات کا معلوم کرنا تقدیر کا ظہور ضروری ہے کہ خاص تقدیر کے ظہور کے اسباب کیا ہوتے ہیں؟ اس بات کے نہ سمجھنے کے باعث سے ہی بعض لوگ یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں خدا کراتا ہے۔وہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک شخص سے جبراً کام نہیں کراتا۔خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر کے نزول کے لئے خاص شرائط ہیں۔در حقیقت یہ دھو کا عجب سے پیدا ہوا ہے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں جن سے خدا کام کراتا ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالٰی کے خاص حکم خاص ہی لوگوں کے لئے ہوتے ہیں خواہ وہ خاص طور پر نیک ہوں خواہ وہ خاص طور