انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 31

لوم جلد ۴ ٣١ عورتوں کا دین - رہی ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُ، وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے فرموده ۶- اکتوبر ۱۹۱۷ء بمقام شمله) عورتوں کے متعلق سب سے پہلی اور سب سے بڑی نصیحت عورتوں کو ضروری نصیحت ۹۵ جو انہیں کرنے کی ضرورت ہے وہ انہیں اس زمانہ میں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ دین کے معاملہ میں وہ اسی طرح شریعت کے قانون کی پابند ہیں اور اسی طرح شریعت کے قانون پر عمل کریں کہ جس طرح مرد کرتے ہیں۔یہ ایک بڑی مشکل ہے جو اس زمانہ میں ہمیں پیش آئی ہے کہ عورتوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ وہ دینی معاملات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہیں۔بہت سی عورتیں ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ دین کے معاملات میں حصہ لینا ان کے خاوندوں کا کام ہے۔اسی وجہ سے اس زمانہ میں عورتوں کا مذہب کوئی مستقل مذہب نہیں رہا۔منٹو میں سے پچانو 20 عورتیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ایسی ملیں گی جنہوں نے کسی مذہب کو اس کے بچے ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا بلکہ خاوندوں کی وجہ سے قبول کیا ہے۔مرد اگر آج شیعہ ہے تو عورت بھی شیعہ ہے۔مرد اگر سنی ہے تو عورت بھی سنی ہے۔کل کو اگر مرد شیعہ سے سنی ہو گیا تو عورت بھی سنی ہو جاتی ہے اور جس طرح اس کے خاوند کے مذہب میں تبدیلی ہوتی ہے اسی طرح اس کا اپنا مذ ہب بھی بدلتا رہتا ہے۔لیکن اس جہالت اور خام خیالی کی وجہ سے عورتوں میں مذہب نہیں رہا۔دیکھو اگر شیر کی تصویر ہو تو انسان اس سے ڈرتا نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اسی طرح سے آگ تب ہی کھانا پکائے گی جب حقیقی آگ ہو اگر اس کی تصویر ہو تو کچھ نہیں کر سکتی۔تو چونکہ عورتوں کا مذہب نقلی ہوتا ہے اور جس طرح نقلی آگ کچھ نقصان نہیں دے سکتی اسی طرح ان کا نقلی مذہب بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔