انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 555

انوار العلوم جلد ۵۵۵ کتاب کرتے رہتے ہیں یا کوئی زمیندار ہے اسے ہر وقت یہی خیال رہتا ہے کہ اگر یوں ہو گا تو کیا ہو گا اگر یوں ہو گا تو کیا؟ بزرگوں نے اس قسم کے خیالات سے روکا ہے اور سعی لاحاصل سے منع کیا ہے اور سعی حقیقی سے وہ نہیں روکتے۔اور سعی لاحاصل یہ ہوتی ہے کہ مثلاً سردی کے موسم میں بستر ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔اب اگر کوئی تھیں تو شکیں اور دس لحاف لے لے تو ہم کہیں گے یہ فضول ہے ایک بستر لے لینا کافی ہے اسی طرح وہ کہتے ہیں۔ورنہ اصل اور حقیقی سعی تو وہ خود بھی کرتے ہیں۔ان دو گروہوں کے سوا جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ایک تیسرا گروہ بھی ہے ایک اور گردہ اس نے اپنی طرف سے درمیانی راستہ اختیار کیا ہے مگر وہ بھی اسلام کے خلاف ہے۔وہ کہتے ہیں ہر ایک کام میں تقدیر بھی چلتی ہے اور تدبیر بھی۔وہ کہتے ہیں ہر ایک چیز میں طاقت خدا نے رکھی ہے۔مثلاً آگ میں جلانے، پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت خدا نے بنائی ہے کسی بندہ نے نہیں بنائی۔اسی طرح یہ کہ لکڑی آگ میں جلے۔لوہا، پیتل ، چاندی سونا پگھلے یہ خدا نے مقدر کیا ہے۔آگے اس کو گھڑنا اور اس کی کوئی خاص شکل بنا نا لوہار یا سنار کا کام ہے جو تدبیر ہے۔تو ہر چیز میں خدا نے طاقتیں رکھ دی ہیں یہ تقدیر ہے۔آگے بندہ ان طاقتوں سے کام لیتا ہے یہ تدبیر ہے اور ہر کام میں دونوں باتیں جاری ہیں۔یہ بات تو ٹھیک ہے مگر چونکہ وہ اسی پر بس کر دیتے ہیں اور اپنے خیالات کا انحصار اسی پر رکھتے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں یہ راستہ بھی ٹھیک راستہ نہیں ہے دراصل جو کچھ ایک سائنس دان کہتا ہے وہی یہ بھی کہتے ہیں۔ہاں اتنا فرق ہے کہ سائنس دان بات کو کچھ دور لے جاتا ہے۔مثلا یہ کہ چاندی کے پگھلنے کی کیا وجہ ہے؟ وہ کیونکر پچھلتی ہے؟ لیکن آخر میں کہہ دے گا کہ مجھے علم نہیں کہ پھر اس کی کیا وجہ ہے۔میں اتنا جانتا ہوں کہ کسی غیر متبدل اور محیط گل قانون کے ماتحت یہ سب کام ہو رہا ہے۔مگر اس گروہ کے لوگ ابتداء میں تمام کارخانہ عالم کو ایک قانون کی طرف منسوب کر دیتے ہیں جس کو قانون قدرت کہتے ہیں۔میری تحقیق یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے اس مسئلہ کے نام ایسے غلط نام کی وجہ سے دھو کا رکھے ہیں جو غلط ہیں۔اس لئے اصل مسئلہ مشکل اور مخلوط ہو گیا ہے اور ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے کہ غلط نام رکھنے سے دھو کا لگ جاتا ہے مثلاً اگر کسی شخص کا نام نیک بندہ ہو اور کہا جائے کہ فلاں نیک بندہ نے بہت برا کام کیا ہے تو سننے والا حیران