انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 554

العلوم جلد ۵۵۴ تقدیر الهی فرمانے لگے کہ ہو تا تو رہی ہے جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے یہ تو باتیں ہیں۔میں تو اس موقع کا منتظر تھا کہ پیر صاحب اپنے خاص علوم کی طرف آئیں تو مجھے کچھ ان لوگوں کے حالات سے واقفیت ہو۔میں نے پیر صاحب سے کہا کہ پیر صاحب آپ نے یہ بات بہت بعد میں بتائی۔اگر آپ لاہور میں بتاتے تو آپ اور میں دونوں نقصان سے بچ جاتے۔میں نے اور آپ نے ٹکٹ پر روپیہ ضائع کیا۔اگر آپ کے لئے امر تسر اور میرے لئے قادیان پہنچنا مقدر تھا تو ہم کو اللہ تعالیٰ آپ ہی پہنچا دیتا۔ٹکٹ پر روپیہ خرچنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس پر پیر صاحب فرمانے لگے کہ نہیں اسباب بھی تو ہیں۔میں نے کہا انہی اسباب کی رعایت کے ماتحت مجھے بھی عذر تھا۔اس پر پیر صاحب فرمانے لگے۔یہی میرا بھی مطلب تھا۔گو مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ ان کا اور میرا مطلب ایک کیوں کر ہو سکتا تھا ؟ اس کے علاوہ اور بھی باتیں پیر صاحب سے ہوئیں مگر قدر کے متعلق اسی قدر بات ان سے ہوئی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے پیر اس مسئلہ کے متعلق کس قدر غلط خیالات میں مبتلاء ہیں مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قرآن کریم کی رو سے یہ خیالات باطل ہیں۔ہاں بعض لوگوں کے اقوال ایسے بھی ہیں کہ وہ کہتے بعض لوگوں کے اقوال کا مطلب ہیں سعی بے فائدہ میں اپنا وقت ضائع نہ کرو جو کچھ ملنا ہے وہ مل رہے گا۔اس قسم کے اقوال سے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر بات کے لئے سعی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔اگر ان کے کلام کا یہی مطلب ہے تو میں پوچھتا ہوں وہ روٹی کھانے کے لئے لقمہ پکڑتے، منہ میں ڈالتے اسے چہاتے اور نگلتے تھے یا نہیں؟ پھر وہ سونے کے لئے لیٹتے تھے یا ایک ہی حالت میں دن رات بیٹھے رہتے تھے ؟ پھر اگر خدا نے ہر ایک کام کروانا ہے تو ان کے قول کے کیا معنی ہوئے کہ سعی نہ کرو۔اگر کوئی سعی کرتا ہے تو اس سے سعی بھی خدا ہی کرواتا ہے پھر منع کیوں کیا جائے ؟ مگر بات یہ ہے کہ ایسے اقوال کا مطلب لوگوں نے سمجھا صوفیاء کے کلام کا صحیح مطلب نہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ دنیا کے کام میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ ہر وقت اس میں لگے رہتے ہیں اور ساری محنت اس میں لگا دیتے ہیں۔مثلاً آٹھ نو گھنٹے تو دکان پر بیٹھتے ہیں لیکن جب گھر آتے ہیں تو گھر پر بھی دکان کا ہی حساب