انوارالعلوم (جلد 4) — Page 551
دم جلوه ۵۵۱ ہے کہ وہ اس دن چوری کرے یا ڈاکہ مارے یا زنا کرے۔ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے کہ چونکہ خدا کو علم ہے کہ عبد اللہ نے فلاں دن چوری کرنی ہے اس لئے وہ چوری کرتا ہے۔بلکہ یہ بات ہے کہ چونکہ عبداللہ نے اس دن ایسا کرنا تھا اس لئے یہ بات خدا کے علم میں آئی ہے۔اگر اس نے چوری نہ کرنی ہوتی اور خدا کے علم میں یہ بات ہوتی کہ اس نے چوری کرنی ہے تو یہ جہل کہلا تا علم نہ کہلاتا۔پس چور چوری اس لئے نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ چوری کرے گا بلکہ خدا تعالیٰ کو اس بات کا علم اس لئے ہوا کہ چور نے چوری کرنی تھی۔غرض یہ دھو کا علم اور قدر کے ملا دینے کی وجہ سے لگا ہے لیکن یہ دونوں الگ الگ صفات ہیں اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے خدا تعالیٰ بُرا کام کرنے سے روک کیوں نہیں دیتا کہ خدا تعالی کو جب یہ علم تھا کہ فلاں آدمی فلاں وقت یہ برا کام کرے گا تو اسے روک کیوں نہیں دیتا؟ مثلاً اگر خدا کو علم ہے کہ فلاں شخص چوری کرے گا تو کیوں اس نے چوری کرنے سے اسے روک نہ دیا ؟ ہمارے پاس اگر ایک شخص سندر سنگھ ڈاکو آئے اور کہے کہ میں نے فلاں وقت جیون لال کے گھر ڈاکہ مارنا ہے تو اس علم کے باوجود اگر ہم چپ بیٹھے رہیں تو ہم مجرم ہوں گے کہ نہیں؟ یقیناً شرعی اخلاقی، تمدنی اور اپنے ملک کے قانون کے لحاظ سے ہم مجرم ہوں گے۔حالانکہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں کوئی اور کام ہو اور ہم جیون لال کو نہ بتا سکیں کہ اس کے گھر فلاں وقت ڈاکہ پڑے گا۔یا تو ہو سکتا ہے کہ یہ خطرہ ہو کہ اگر بتایا تو ڈاکو ہمیں مار دیں گے۔پس جب باوجود اس کے کہ اس و ڈاکو کو اپنے ارادہ سے باز رکھنے میں ہمیں خطرات ہیں اگر ہم اس کو باز نہیں رکھتے یا ایسے لوگوں کو اطلاع نہیں دیتے جو اسے باز رکھ سکتے ہیں ہم زیر الزام آجاتے ہیں۔تو پھر خدا تعالی جو طاقتور اور قدرت والا ہے اس کو کسی کا ڈر نہیں اور کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا اس پر زیادہ الزام آتا ہے کہ وہ علم رکھنے کے باوجود کیوں ڈاکو کو روک نہیں دیتا یا جس کے گھر ڈا کہ پڑنا ہو اس کو نہیں بتا دیتا تاکہ وہ اپنی حفاظت کا سامان کر لے۔یہ عجیب بات ہے کہ انسان تو معذور بھی ہو کیونکہ کوئی نہ کوئی وجہ اس کی معذوری کی ہو سکتی ہے وہ باوجود اس کے پکڑا جائے مگر خدا پر باوجود اس کے قادر ہونے کے کوئی الزام نہ آئے؟