انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 545

انوار العلوم جلد ۴ ۵۴۱ تقدیرانی زبان میں بکثرت مستعمل ہے اور خود قرآن کریم میں بھی دوسری جگہ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔عربوں کے کلام میں اس کی ایک مثال یہ شعر ہے أمْوَالُنَا لِذَوِي الْمِيْرَاتِ نَجْمَعُهَا وَدُورُنَا لِخَرَابِ الدَّهْرِ نَبْنِيُّهَا یعنی ہم مال اس لئے جمع کرتے ہیں تا وارث اس کو لے جاویں۔اور گھر اس لئے بناتے ہیں کہ زمانہ ان کو خراب کر دے۔اب ظاہر ہے کہ مالوں کو جمع کرنے اور گھروں کے بنانے کی یہ غرض نہیں ہوتی۔ہاں نتیجہ یہی ہوتا ہے۔پس شاعر کی یہی مراد ہے کہ لوگ مال جمع کرتے ہیں اور رشتہ دار اس کو لے جاتے ہیں اور گھر بناتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمانہ ان گھروں کو خراب کر دیتا ہے۔قرآن کریم میں ایک نہایت واضح مثال سورہ قصص میں آتی ہے جہاں اللہ تعالٰی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے۔فَالْتَقَطَة آل فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَ حَزَنَا - (القصص : ٩) یعنی حضرت موسیٰ کو جب ان کی والدہ نے دریا میں رکھ دیا تو ان کو فرعون کے لوگوں نے اس لئے اٹھا لیا کہ وہ بڑا ہو کر ان کا دشمن بنے اور ان کے لئے باعث غم ہو۔لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ آل فرعون کی موسیٰ کے اٹھانے میں یہ نیت نہیں ہو سکتی تھی۔بلکہ جیسا کہ اگلی آیت ہی میں ہے ان کی یہ نیت نہیں تھی بلکہ اس کے خلاف تھی۔چنانچہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے فرعون سے کہا کہ۔عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَّا اَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (القصص: ١٠) یعنی قریب ہے کہ یہ بچہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں۔لیکن وہ جانتے نہ تھے کہ وہ بڑا ہو کر ان کی تباہی کا موجب ہو گا۔پس آیت کے یہی معنی ہیں کہ فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا لیکن آخر وہ بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے لئے باعث غم ہوا اور یہی معنی اس جگہ وَلَقَدْ ذَرَ أَنَا لِجَهَنَّمَ میں لام کے ہیں۔پس اس آیت سے بھی یہ استدلال کرنا کہ خدا تعالیٰ جبرا بعض لوگوں کو دوزخی بناتا ہے اور بعض کو جنتی درست نہیں ہے۔