انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 533

تقدیرانی انوار العلوم جلدم ۵۳۳ جو شخص اچھی اور بری قدر پر ایمان نہیں لاتا میں اس سے بیزار ہوں۔گویا اس مسئلہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔پس قدر کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے اور جب کوئی ایمان حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلے اور چاہے کہ ایمان لانے والوں میں جگہ پائے تو اس کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اس پر ایمان لائے اور یقین رکھے۔لیکن اگر کوئی دعویٰ تو کرتا ہے کہ مسلمان ہے لیکن قدر کو نہیں مانتا تو رسول کریم کی تعلیم کے ماتحت وہ مسلمان نہیں کہلا سکتا کیونکہ مسلم آپ ہی کے خدام اور متبعین کا نام ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں آپ ہی سے فیصلہ چاہا جائے گا۔پس وہ مسلم نہیں جو قدر پر ایمان نہیں لاتا کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اس وقت وہ شخص تک مسلم نہیں ہو سکتا جب تک قدر پر ایمان نہیں لاتا۔ممکن ہے بعض لوگوں کے دل میں خیال ہو اور مسئلہ تقدیر ایمانیات میں داخل ہے ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جس طرح بعض اور باتوں کو ضروری دیکھ کر محض زور دینے کے لئے ایمان میں شامل کیا ہے اسی طرح قدر کا مسئلہ ہو۔مثلاً آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی غیر قوم کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے۔مثلاً سید نہیں ہے اور اپنے آپ کو سید کہتا ہے مؤمن نہیں ہے (ابو داؤد - ابواب النوم باب في الرجل ينتمى الى غير موالیہ یا آپ نے فرمایا ہے کہ مسلمان کا قتل کرنا کفر ہے۔(مند احمد بن حنبل جلد ۱ صفحہ ۱۷۶) اسی طرح اور کئی باتوں کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ جو ایسا نہیں کرتا یا ایسا کرتا ہے وہ مؤمن نہیں ہے مثلاً جس طرح آپ نے یہ فرمایا ہے کہ جو پٹھان ہے اور اپنے آپ کو سید کہتا ہے یا مغل ہے اور سید بنتا ہے یا کسی بڑے آدمی کی نسل نہیں ہے مگر اس کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے وہ مؤمن نہیں ہے۔اسی طرح مسئلہ قضاء و قدر کے متعلق فرما دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ضرور مان لیا جائے۔پس اس کو نہ ماننا گناہ ہے اور بڑا گناہ ہے مگر ایمان اور اسلام سے خارج کر دینے والا نہیں ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جتنے ایمانی مسئلے ہیں اور جن پر ایمان لائے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا قرآن کریم میں موجود ہیں اور ان کا انحصار حدیثوں پر نہیں ہے کیونکہ حدیثوں کا علم ظنی ہے یقینی نہیں ہے۔