انوارالعلوم (جلد 4) — Page 532
العلوم جلد ۵۳۲ تقدیر الهی ارادہ کے ماتحت اس دفعہ میں نے اس مسئلہ کو چنا ہے جو میرے نزدیک اہم امور ایمانیہ میں سے ہے اور نہایت مشکل مسئلہ ہے حتی کہ لوگوں کے اعمال پر اس کا خطرناک اثر پڑا ہے۔وہ مسئلہ کیا ہے؟ وہ قضاء و قدر کا مسئلہ ہے جس کو عام طور پر تقدیر یا قسمت یا مقدر کہتے ہیں۔اور اس کے مختلف نام رکھے ہوئے ہیں۔مسئلہ تقدیر ایمانیات میں سے ہے اور بہت مشکل مسئلہ ہے۔بہت لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں اور کئی قومیں اسی کو نہ جاننے کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہیں۔کئی مذاہب اس کے نہ معلوم ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئے ہیں۔بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ اسی مسئلہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مذاہب میں ایسی تعلیمیں جو انسان کے اخلاق اور اعمال کو تباہ و برباد کرنے والی ہیں آگئی ہیں۔اور یورپ کے لوگ مسلمانوں پر عموماً اس مسئلہ کی وجہ سے ہنسا کرتے ہیں۔لیکن وہ بلاوجہ نہیں بنتے بلکہ ان کا ہنسنا جائز ہوتا ہے کیونکہ مسلمان ان کو خود اپنے اوپر ہنسی کرنے کا موقع دیتے ہیں۔مثلاً اگر کبھی مسلمانوں کی لڑائی کا ذکر آجائے تو یوروپین مصنف لکھیں گے کہ فلاں موقع پر بڑے زور شور سے گولیاں چلتی رہیں لیکن مسلمان پیچھے نہ ہے بلکہ آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔آگے یہ نہیں لکھیں گے کہ یہ ان کی بہادری اور شجاعت کا ثبوت تھا بلکہ لکھیں گے کہ اس لئے کہ انہیں اپنی قسمت پر یقین تھا کہ اگر مرنا ہے تو مر جائیں گے اگر نہیں مرتا تو نہیں مریں گے۔اگر مسلمان اس وجہ سے دشمن کے مقابلہ میں قائم رہا کرتے تو بھی کوئی حرج نہ تھا لیکن اگر گولیاں زیادہ دیر چلیں تو پھر وہ کھڑے نہیں رہیں گے بلکہ بھاگ جائیں گے۔غرض تقدیر پر ایمان لانا ایک مسئلہ تقدیر کے متعلق رسول کریم ﷺ کا ارشاد اہم مسئلہ ہے اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک خدا کی قدر پر ایمان نہ لائے۔آپ فرماتے ہیں کہ لا يُؤْمِنُ عَبْد حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّه ترندی ابواب القد رباب ما جاء في الايمان بالقدر خيره " وشره) یعنی کوئی بندہ مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک قدر پر ایمان نہ لاوے اچھی قدر پر بھی اور بری قدر پر بھی۔پھر فرماتے ہیں " مَنْ لَمْ يُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَ شَرِّهِ فَانَا بَرِئَ مِنْهُ (کنز العمال جلد الفصل السادس في الايمان بالقدر روایت نمبر ۴۸۵)